Saturday, 10 September 2022

دشمنی وہ لائے ہیں دوستی کے دامن میں

 دشمنی وہ لائے ہیں دوستی کے دامن میں

تیرگی ہے پوشیدہ روشنی کے دامن میں

عدل کے لیے ملزم کب سے راہ تکتا ہے

کون سی ہے مجبوری منصفی کے دامن میں

گو کہ وہ مسیحا ہے پر یہ درد میرے ہیں

کیسے سارے دکھ رکھ دوں اجنبی کے دامن میں

یوں لباس بوسیدہ مال و زر سے خالی ہے

بے کراں محبت ہے مفلسی کے دامن میں

ہم انا پرستی میں ان کو بھی نہ کھو بیٹھیں

خوشنما سے جو پل ہیں ہم سبھی کے دامن میں

اک قلم کی طاقت پر ہم یہ جنگ جیتیں گے

حوصلوں کی وسعت ہے زندگی کے دامن میں

فکر کے نگینوں کو لفظ نے تراشا ہے

اے شفا یہ ہیرے ہیں شاعری کے دامن میں


شفا کجگاؤنوی

No comments:

Post a Comment