دشمنی وہ لائے ہیں دوستی کے دامن میں
تیرگی ہے پوشیدہ روشنی کے دامن میں
عدل کے لیے ملزم کب سے راہ تکتا ہے
کون سی ہے مجبوری منصفی کے دامن میں
گو کہ وہ مسیحا ہے پر یہ درد میرے ہیں
کیسے سارے دکھ رکھ دوں اجنبی کے دامن میں
یوں لباس بوسیدہ مال و زر سے خالی ہے
بے کراں محبت ہے مفلسی کے دامن میں
ہم انا پرستی میں ان کو بھی نہ کھو بیٹھیں
خوشنما سے جو پل ہیں ہم سبھی کے دامن میں
اک قلم کی طاقت پر ہم یہ جنگ جیتیں گے
حوصلوں کی وسعت ہے زندگی کے دامن میں
فکر کے نگینوں کو لفظ نے تراشا ہے
اے شفا یہ ہیرے ہیں شاعری کے دامن میں
شفا کجگاؤنوی
No comments:
Post a Comment