Showing posts with label عندلیب شادانی. Show all posts
Showing posts with label عندلیب شادانی. Show all posts

Wednesday, 17 March 2021

جہاں عہد تمنا ختم ہو جائے

 جہاں عہدِ تمنا ختم ہو جائے

عذابِ جاودانی زندگی ہے

رُلاتی ہے مجھے کیوں چاندنی رات

یہی اک راز میری زندگی ہے

خلش ہو، درد ہو، کاہش ہو، کچھ ہو

فقط جینا بھی کوئی زندگی ہے

Monday, 8 March 2021

صحن‌ چمن ہے گوشۂ زنداں ترے بغیر

 صحن‌ چمن ہے گوشۂ زنداں تِرے بغیر

معمورۂ حیات ہے ویراں تِرے بغیر

چھپ چھپ کے جس کو دیکھنے آتا تھا ماہتاب

ظلمت کدہ ہے اب وہ شبستاں تِرے بغیر

جلتا ہے چارہ ساز کی نادانیوں پہ جی

میں اور میرے درد کا درماں تِرے بغیر

Friday, 5 February 2021

مجھے الزام نہ دے ترک شکیبائی کا

 مجھے الزام نہ دے ترکِ شکیبائی کا

مجھ سے پوشیدہ ہے عالم تِری رعنائی کا

مانعِ جلوہ گری خوف ہے رسوائی کا

بس اسی پر تمہیں دعویٰ ہے زلیخائی کا

کیا کہوں گر اسے اعجازِ محبت نہ کہوں

حسن خود محوِ تماشا ہے تماشائی کا

Friday, 7 August 2020

ہنستی آنکھیں ہنستا چہرہ اک مجبور بہانہ ہے

ہنستی آنکھیں ہنستا چہرہ اک مجبور بہانہ ہے
چاند میں سچ مچ نور کہاں ہے چاند تو اک ویرانہ ہے
ناز پرستش بن جائے گا صبر ذرا اے شورشِ دل
الفت کی دیوانہ گری سے حسن ابھی بیگانہ ہے
مجھ کو تنہا چھوڑنے والے تو نہ کہیں تنہا رہ جائے
جس پر تجھ کو ناز ہے اتنا اس کا نام زمانہ ہے

Tuesday, 19 April 2016

کیا کہیے روئے حسن پہ عالم نقاب کا

کیا کہیے روئے حسن پہ عالم نقاب کا
منہ پر لیا ہے مہر نے دامن سحاب کا
تصویر میں نے مانگی تھی شوخی تو دیکھیے
ایک پھول اس نے بھیج دیا ہے گلاب کا 
اب کیا سنائیں ٹوٹے ہوئے دل کی داستاں
آہنگ بے مزہ ہے شکستہ رباب کا

کوئی ادا شناس محبت ہمیں بتائے

کوئی ادا شناسِ محبت ہمیں بتائے
جو ہم کو بھول جائے وہ کیوں ہم کو یاد آئے
کس کی مجال تھی کہ حجابِ نظر اٹھائے
وہ مسکرا کے آپ ہی دل کے قریب آئے
اک دل نشیں نگاہ میں اللہ یہ خلش
نشتر کی نوک جیسے کلیجے میں ٹوٹ جائے

Saturday, 24 August 2013

دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو

دیر لگی آنے میں تم کو شُکر ہے پھر بھی آئے تو
 آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ویسے ہم گھبرائے تو
شفق دھنک مہتاب گھٹائیں تارے نغمے بجلی پھول
 اس دامن میں کیا کیا کچھ ہے دامن ہاتھ میں آئے تو
چاہت کے بدلے میں ہم نے بیچ دی اپنی مرضی تک
کوئی ملے تو دل کا گاہک کوئی ہمیں اپنائے تو