گرداب میں کشتی ہے اور دُور کنارا ہے
اب ڈُوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے
ہم نے بھی ہرے نازک پودوں کی طرح اکثر
ہر دور مُصیبت کا ہنس ہنس کے گُزارا ہے
دل چونک سا جاتا ہے اپنی بھی صدا سُن کر
یادوں کے جھروکوں سے تُو نے بھی پکارا ہے
کچھ اور سمجھتے ہو تم جس کو دلِ مُضطر
نظروں سے مِری دیکھو، وہ بھور کا تارا ہے
پھُولوں کی طرح کانٹے مُرجھایا نہیں کرتے
یہ سوچ کے گھر ہم نے کانٹوں سے سنوارا ہے
بربادی کو کافی ہے اک وقت کی ٹھوکر ہی
سامانِ بقاء کیا ہے؟ سب جھُوٹا پسارا ہے
افسانۂ دل 💖 اپنا اوروں کو سُنائیں کیا
جب تُو ہی نہیں واقف، کیا حال ہمارا ہے
کم ظرف بشر دریا قطرے کو بنائے گا؟
احسان رذیلوں کا ہرگز نہ گوارا ہے
جو آج ہواؤں کے ہونٹوں پہ ہے نام اپنا
’کچھ اپنوں کی سازش ہے کچھ ان کا اشارا ہے‘
جِینے کی تمنّا میں ہر بار مَرے ہیں عکس
اے زیست! تِرا ہم نے ہر قرض اُتارا ہے
عکس لکھنوی
No comments:
Post a Comment