Showing posts with label خالد جمال. Show all posts
Showing posts with label خالد جمال. Show all posts

Tuesday, 18 October 2022

زندگی چاک ہوئی کیا ہو رفو کی صورت

 زندگی چاک ہوئی کیا ہو رفو کی صورت

مل گئی خاک میں اب ذوقِ نمو کی صورت

حوصلے کیا ہوئے چڑھتے ہوئے دریاؤں کے

ریگزاروں میں کہاں کھو گئی جو کی صورت

خواہش سیم بدن سے ہوا وحشت کا نزول

نشۂ جسم نے کیا کر دی لہو کی صورت

Sunday, 9 October 2022

آشنائی ہی سہی اپنی طلب کوئی تو ہو

 آشنائی ہی سہی اپنی طلب کوئی تو ہو

اس دیار غیر میں بھی ہم نسب کوئی تو ہو

شور گھر تک آ گیا ہے کوچہ و بازار کا

کچھ تو ایسا ہو یہاں پہ مہر لب کوئی تو ہو

کرب تنہائی لیے آخر کہاں تک جائیے

حادثہ ہی ہو اگرچہ بے سبب کوئی تو ہو

Thursday, 24 March 2022

کسی بت کے شکم سے گر کوئی آذر نکل آئے

کسی بت کے شکم سے گر کوئی آذر نکل آئے

خرد کا بند ٹوٹے،۔ اور اک پتھر نکل آئے

تقاضے جب بدن کے روح میں ڈھل کر نکل آئے

قبا کے بند ٹوٹے،۔ اور حسیں بستر نکل آئے

زمانہ نا شناسی کا،۔ مروت بے خیالی کی

نہ جانے کس گلی کس موڑ پر خنجر نکل آئے

Saturday, 21 August 2021

سفر تمام ہوا گرد جستجو بھی گئی

 سفر تمام ہوا گردِ جستجو بھی گئی

تِری تلاش میں نکلی تو آرزو بھی گئی

اک انتظار سا تھا برف کے پگھلنے کا

پھر اس کے بعد تو امیدِ آبجُو بھی گئی

طلب کی راہ میں ایسے بھی موڑ آئے ہیں

کہ حرف و صوت گیا شوخئ گلُو بھی گئی

Monday, 26 July 2021

عشق ہے وحشت ہے کیا ہے کچھ پتا تو چاہئے

 عشق ہے وحشت ہے کیا ہے کچھ پتا تو چاہئے

کیا کہوں میں اس سے آخر مدعا تو چاہئے

در گزر کر میرے مالک تُو نظر آتا نہیں

سر جھکانے کے لیے کوئی پتا تو چاہئے

رات کی پلکیں بھی خالی گھر کے آنگن کی طرح

روشنی کے واسطے کوئی دِیا تو چاہئے