زندگی چاک ہوئی کیا ہو رفو کی صورت
مل گئی خاک میں اب ذوقِ نمو کی صورت
حوصلے کیا ہوئے چڑھتے ہوئے دریاؤں کے
ریگزاروں میں کہاں کھو گئی جو کی صورت
خواہش سیم بدن سے ہوا وحشت کا نزول
نشۂ جسم نے کیا کر دی لہو کی صورت
زندگی چاک ہوئی کیا ہو رفو کی صورت
مل گئی خاک میں اب ذوقِ نمو کی صورت
حوصلے کیا ہوئے چڑھتے ہوئے دریاؤں کے
ریگزاروں میں کہاں کھو گئی جو کی صورت
خواہش سیم بدن سے ہوا وحشت کا نزول
نشۂ جسم نے کیا کر دی لہو کی صورت
آشنائی ہی سہی اپنی طلب کوئی تو ہو
اس دیار غیر میں بھی ہم نسب کوئی تو ہو
شور گھر تک آ گیا ہے کوچہ و بازار کا
کچھ تو ایسا ہو یہاں پہ مہر لب کوئی تو ہو
کرب تنہائی لیے آخر کہاں تک جائیے
حادثہ ہی ہو اگرچہ بے سبب کوئی تو ہو
کسی بت کے شکم سے گر کوئی آذر نکل آئے
خرد کا بند ٹوٹے،۔ اور اک پتھر نکل آئے
تقاضے جب بدن کے روح میں ڈھل کر نکل آئے
قبا کے بند ٹوٹے،۔ اور حسیں بستر نکل آئے
زمانہ نا شناسی کا،۔ مروت بے خیالی کی
نہ جانے کس گلی کس موڑ پر خنجر نکل آئے
سفر تمام ہوا گردِ جستجو بھی گئی
تِری تلاش میں نکلی تو آرزو بھی گئی
اک انتظار سا تھا برف کے پگھلنے کا
پھر اس کے بعد تو امیدِ آبجُو بھی گئی
طلب کی راہ میں ایسے بھی موڑ آئے ہیں
کہ حرف و صوت گیا شوخئ گلُو بھی گئی
عشق ہے وحشت ہے کیا ہے کچھ پتا تو چاہئے
کیا کہوں میں اس سے آخر مدعا تو چاہئے
در گزر کر میرے مالک تُو نظر آتا نہیں
سر جھکانے کے لیے کوئی پتا تو چاہئے
رات کی پلکیں بھی خالی گھر کے آنگن کی طرح
روشنی کے واسطے کوئی دِیا تو چاہئے