آواز شہید
(عالم ارواح سے ایک فلسطینی مجاہد کا خطاب)
گڑگڑاہٹ ٹینکوں کی
گھن گرج توپوں کی
طیاروں کا شور الاماں
تڑتڑاتی گولیوں سے ریزہ ریزہ ہڈیاں
آواز شہید
(عالم ارواح سے ایک فلسطینی مجاہد کا خطاب)
گڑگڑاہٹ ٹینکوں کی
گھن گرج توپوں کی
طیاروں کا شور الاماں
تڑتڑاتی گولیوں سے ریزہ ریزہ ہڈیاں
کہتی ہے خود شفق کی زباں سے یہ شام سرخ
برپا زمیں پہ ہو کے رہے گا نظامِ سرخ
لائے گی رنگ گردشِ آفاق بھی ضرور
ہم تک کبھی تو بزم میں پہنچے گا جام سرخ
پرچم ہمارا سرخ اسی واسطے سے ہے
لینا ہے اہلِ زر سے ہمیں انتقام سرخ
چہرہ ہے وقت وقت کا چہرہ نما ہوں میں
اپنے سوا سبھی کے لیے آئینہ ہوں میں
اب اس کا کیا علاج، کہ تم ہی نہ سن سکو
اے اہلِ دل! سنو کہ تمہاری صدا ہوں میں
اس حُسنِ اتفاق کے قربان جائیے
آج آئینہ میں خود کو نظر آ گیا ہوں میں
ملحوظ رہے اتنا اے محوِ خود آرائی
شرمندہ نہ ہو جائے اعجازِ مسیحائی
بازی گہِ عالم میں لاکھوں کی شناسائی
کچھ میں بھی ہوں ہرجائی، کچھ تُو بھی ہے ہرجائی
اے دوست! تِرے قرباں، وہ غم مجھے بخشا ہے
غیروں سے نہ تھی ممکن جس غم کی پذیرائی
سنو! سنو! مِرا قصہ ابھی تمام نہیں
تڑپ اٹھو گے جہاں تم وہ یہ مقام نہیں
بلائے جان ہے خالد! سکوں پیام نہیں
جو میکدے میں نہ گزرے وہ شام، شام نہیں
مجھے حضور کی چشمِ کرم کا رونا ہے
مجھے حضور کے عہدِ کرم سے کام نہیں
فقیرِ خاک نشیں تھے كسی کو کیا دیتے
مگر یہی کہ وہ ملتا تو ہم دعا دیتے
گلی گلی میں پکارا نگر نگر گھومے
کہاں کہاں نہ پھرے تجھ کو ہم صدا دیتے
لگی یہ دل کی بھلا آنسوؤں سے کیا بجھتی
سرشکِ دیدۂ غم اور بھی ہوا دیتے
پھر ہے نزولِ تیرہ شبی، روشنی کی خیر
اپنوں کی خیر بلکہ ہر ایک اجنبی کی خیر
پھر آدمی کے ہاتھ میں خنجر ہے دوستو
اور میں یہ سوچتا ہوں؛ اب آدمی کی خیر
کیا حُسنِ انتظام ہے،۔ کیا بندوبست ہے
دستِ تہی کی خیر، نہ تاجِ شہی کی خیر
آدمی حالات سے جب تک نہ سمجھوتا کرے
غیر ممکن ہے کہ دھوکہ کھائے اور دھوکا کرے
ہم غریبوں کے لیے کچھ کم ہے دنیا کا عذاب
ہم غریبوں کے لیے وہ حشر بھی برپا کرے
یہ بھی کیا کم ہے کہ اپنے کفر پہ قائم ہیں لوگ
ورنہ ان حالات میں ایماں فقط سجدہ کرے
پر ہول و پر خطر ہے فضا جاگتا ہوں میں
مسموم سی ہے آب و ہوا، جاگتا ہوں میں
لب پہ ہے روشنی کی دعا، جاگتا ہوں میں
میں بن چکا ہوں کوہِ ندا، جاگتا ہوں میں
میرا قصور میری خطا، جاگتا ہوں میں
ہاں درمیانِ کرب و بلا جاگتا ہوں میں
پسِ کارِ صبح فراق تھی جو شامِ ہجر سے آ ملی
یہ حیات یک دو نفس ملی، یہ اگر ملی بھی تو کیا ملی
نہ وہ سیلِ نکہت و نور تھا نہ ہجوم حور و قصور تھا
سرِ بزم صبح کو نوحہ گر، جو ملی تو صرف صبا ملی
یہ ستم ظریفئ وقت ہے،۔ یہ کرم نمائی بخت ہے
جسے زندگی کی ہوس نہ تھی اسے زندگی کی سزا ملی
کوئی ہنسائے تو ہنس دوں رُلائے رو لوں میں
یہ زندگی ہے تو پھر اس سے ہاتھ دھو لوں میں
میں حرف حرف رہا ہوں صلیب و دار بدوش
تو پھر جو تو نے کہا ہے اسے بھی تولوں میں
میرے خدا نے مجھے بولنا سکھایا ہے
تو پھر جو ہر حرفِ یقیں ہے وہ کیوں نہ بولوں میں
تماشا کر چکی چشمِ تماشا ہم نہ جاگیں گے
جسے کرنا ہو کر لے حشر برپا ہم نہ جاگیں گے
یہ کہہ کر سو گئے دشتِ فنا میں جاگنے والے
کہ تا شورِ نشورِ صبحِ فردا ہم نہ جاگیں گے
گراں گزرے نہ اپنا جاگنا ان اہلِ محفل پر
چلو یہ کہہ کہ سو جائیں کہ اچھا ہم نہ جاگیں گے
یہ عہدِ کم نگہی اس میں قدر جوہر کیا
غزال دشت سگاں ہوں مِرا مقدر کیا
وفا کا نام لیا ہے تو اب یہ سوچتا ہوں
کہ میری سمت نہ آئے گا کوئی پتھر کیا
ضمیر زندہ و بیدار بن گیا ہوں میں
قلندری یہ نہیں ہے تو پھر قلندر کیا
کہتے ہیں کچھ نہ سنتے ہیں خالد کسی سے ہم
دن رات کھیلتے ہیں غمِ بے کسی سے ہم
دزدیدہ اک نگاہ تیری دل کو لے اُڑی
منہ دیکھتے ہی رہ گئے کس بیکسی سے ہم
اچھا کیا کہ تُو نے خود آزاد کر دیا
عاجز بھی آ گئے تھے تیری بندگی سے ہم
جو کہہ چکا ہوں اس سے مکرتا نہیں ہوں میں
اپنے سوا کسی سے بھی ڈرتا نہیں ہوں میں
ہر چند اپنے ظرف میں رہتا نہیں ہوں میں
لیکن یہی کہ دشت ہوں دریا نہیں ہوں میں
میں دور سے سرابِ نظر ہوں نظر سے دور
دیکھو جو مجھ کو پاس سے ایسا نہیں ہوں میں
وقت وداعِ تیرہ شبی ہے گجر بجاؤ
دامانِ شب میں آگ لگی ہے گجر بجاؤ
پھوٹی شعاع نور، افق کی کمان سے
تاریکیوں کے دم پہ بنی ہے گجر بجاؤ
غنچے کھلے، نسیم چلی، جاگ اٹھے طیور
صحن چمن میں دھوم مچی ہے گجر بجاؤ
آواز آئینے میں نہ گر خود نمائی دے
قطرہ دکھائی دے نہ سمندر دکھائی دے
کہئے کہ اب کہاں کوئی جا کر دہائی دے
باہر کا سارا شور جب اندر سنائی دے
اب جسم و جاں کو کس کی امانت میں سونپیۓ
جب دوستوں کے ہاتھ میں خنجر دکھائی دے
مقتولو! محروموں، اب پہچان میں کیا شے حائل ہے
"ہر قاتل کے چہرے پر یہ صاف لکھا ہے "قاتل ہے
تم چاہو تو، اب بھی کشتی پار لگانا ممکن ہے
دائیں ہاتھ بھنور ہے تم سے، بائیں ہاتھ پہ ساحل ہے
دشمن گو کمزور نہیں، پر اس کے زخم بھی گن دیکھو
جتنے گھائل تم ہو یارو!، وہ بھی اتنا گھائل ہے
حدیثِ شیشہ و سنگِ ستم گری کیا ہے
یہ زندگی ہے، تو آخر یہ زندگی کیا ہے
گھروں میں چین سہی بستیوں میں امن سہی
تو پھر یہ آگ دلوں میں لگی ہوئی کیا ہے
ابھی تو غنچہ و گل سے شرار برسیں گے
ابھی بہار کا آغاز ہے،۔ ابھی کیا ہے
آنکھوں میں اشک لب پہ ہنسی چاہتا ہوں میں
جو آپ چاہتے ہیں وہی چاہتا ہوں میں
یعنی یہی کہ قفلِ در مے کدہ کھلے
کل چاہتے ہیں آپ ابھی چاہتا ہوں میں
مجرم ہوں میں کہ آج وفا جرم ہی تو ہے
اس جرم کی سزا بھی کڑی چاہتا ہوں میں