Showing posts with label خالد علیگ. Show all posts
Showing posts with label خالد علیگ. Show all posts

Friday, 25 February 2022

گڑگڑاہٹ ٹینکوں کی گھن گرج توپوں کی

 آواز شہید


(عالم ارواح سے ایک فلسطینی مجاہد کا خطاب)


گڑگڑاہٹ ٹینکوں کی

گھن گرج توپوں کی

طیاروں کا شور الاماں

تڑتڑاتی گولیوں سے ریزہ ریزہ ہڈیاں

کہتی ہے خود شفق کی زباں سے یہ شام سرخ

 کہتی ہے خود شفق کی زباں سے یہ شام سرخ

برپا زمیں پہ ہو کے رہے گا نظامِ سرخ

لائے گی رنگ گردشِ آفاق بھی ضرور

ہم تک کبھی تو بزم میں پہنچے گا جام سرخ

پرچم ہمارا سرخ اسی واسطے سے ہے

لینا ہے اہلِ زر سے ہمیں انتقام سرخ

Thursday, 24 February 2022

چہرہ ہے وقت وقت کا چہرہ نما ہوں میں

 چہرہ ہے وقت وقت کا چہرہ نما ہوں میں

اپنے سوا سبھی کے لیے آئینہ ہوں میں

اب اس کا کیا علاج، کہ تم ہی نہ سن سکو

اے اہلِ دل! سنو کہ تمہاری صدا ہوں میں

اس حُسنِ اتفاق کے قربان جائیے

آج آئینہ میں خود کو نظر آ گیا ہوں میں

Wednesday, 23 February 2022

ملحوظ رہے اتنا اے محو خود آرائی

 ملحوظ رہے اتنا اے محوِ خود آرائی

شرمندہ نہ ہو جائے اعجازِ مسیحائی

بازی گہِ عالم میں لاکھوں کی شناسائی

کچھ میں بھی ہوں ہرجائی، کچھ تُو بھی ہے ہرجائی

اے دوست! تِرے قرباں، وہ غم مجھے بخشا ہے

غیروں سے نہ تھی ممکن جس غم کی پذیرائی

Monday, 21 February 2022

سنو سنو مرا قصہ ابھی تمام نہیں

 سنو! سنو! مِرا قصہ ابھی تمام نہیں

تڑپ اٹھو گے جہاں تم وہ یہ مقام نہیں

بلائے جان ہے خالد! سکوں پیام نہیں

جو میکدے میں نہ گزرے وہ شام، شام نہیں

مجھے حضور کی چشمِ کرم کا رونا ہے

مجھے حضور کے عہدِ کرم سے کام نہیں

Saturday, 19 February 2022

فقیر خاک نشیں تھے كسی کو کیا دیتے

 فقیرِ خاک نشیں تھے كسی کو کیا دیتے

مگر یہی کہ وہ ملتا تو ہم دعا دیتے

گلی گلی میں پکارا نگر نگر گھومے

کہاں کہاں نہ پھرے تجھ کو ہم صدا دیتے

لگی یہ دل کی بھلا آنسوؤں سے کیا بجھتی

سرشکِ دیدۂ غم اور بھی ہوا دیتے

Friday, 18 February 2022

پھر ہے نزول تیرہ شبی روشنی کی خیر

 پھر ہے نزولِ تیرہ شبی، روشنی کی خیر

اپنوں کی خیر بلکہ ہر ایک اجنبی کی خیر

پھر آدمی کے ہاتھ میں خنجر ہے دوستو

اور میں یہ سوچتا ہوں؛ اب آدمی کی خیر

کیا حُسنِ انتظام ہے،۔ کیا بندوبست ہے

دستِ تہی کی خیر، نہ تاجِ شہی کی خیر

Monday, 14 February 2022

آدمی حالات سے جب تک نہ سمجھوتا کرے

 آدمی حالات سے جب تک نہ سمجھوتا کرے

غیر ممکن ہے کہ دھوکہ کھائے اور دھوکا کرے

ہم غریبوں کے لیے کچھ کم ہے دنیا کا عذاب

ہم غریبوں کے لیے وہ حشر بھی برپا کرے

یہ بھی کیا کم ہے کہ اپنے کفر پہ قائم ہیں لوگ

ورنہ ان حالات میں ایماں فقط سجدہ کرے

Saturday, 12 February 2022

پر ہول و پر خطر ہے فضا جاگتا ہوں میں

 پر ہول و پر خطر ہے فضا جاگتا ہوں میں

مسموم سی ہے آب و ہوا، جاگتا ہوں میں

لب پہ ہے روشنی کی دعا، جاگتا ہوں میں

میں بن چکا ہوں کوہِ ندا، جاگتا ہوں میں

میرا قصور میری خطا، جاگتا ہوں میں

ہاں درمیانِ کرب و بلا جاگتا ہوں میں

Thursday, 10 February 2022

پس کار صبح فراق تھی جو شام ہجر سے آ ملی

 پسِ کارِ صبح فراق تھی جو شامِ ہجر سے آ ملی

یہ حیات یک دو نفس ملی، یہ اگر ملی بھی تو کیا ملی

نہ وہ سیلِ نکہت و نور تھا نہ ہجوم حور و قصور تھا

سرِ بزم صبح کو نوحہ گر، جو ملی تو صرف صبا ملی

یہ ستم ظریفئ وقت ہے،۔ یہ کرم نمائی بخت ہے

جسے زندگی کی ہوس نہ تھی اسے زندگی کی سزا ملی

Friday, 4 February 2022

کوئی ہنسائے تو ہنس دوں رلائے رو لوں میں

 کوئی ہنسائے تو ہنس دوں رُلائے رو لوں میں

یہ زندگی ہے تو پھر اس سے ہاتھ دھو لوں میں

میں حرف حرف رہا ہوں صلیب و دار بدوش

تو پھر جو تو نے کہا ہے اسے بھی تولوں میں

میرے خدا نے مجھے بولنا سکھایا ہے

تو پھر جو ہر حرفِ یقیں ہے وہ کیوں نہ بولوں میں

Thursday, 3 February 2022

تماشا کر چکی چشم تماشا ہم نہ جاگیں گے

 تماشا کر چکی چشمِ تماشا ہم نہ جاگیں گے

جسے کرنا ہو کر لے حشر برپا ہم نہ جاگیں گے

یہ کہہ کر سو گئے دشتِ فنا میں جاگنے والے

کہ تا شورِ نشورِ صبحِ فردا ہم نہ جاگیں گے

گراں گزرے نہ اپنا جاگنا ان اہلِ محفل پر

چلو یہ کہہ کہ سو جائیں کہ اچھا ہم نہ جاگیں گے

Wednesday, 2 February 2022

یہ عہد کم نگہی اس میں قدر جوہر کیا

 یہ عہدِ کم نگہی اس میں قدر جوہر کیا

غزال دشت سگاں ہوں مِرا مقدر کیا

وفا کا نام لیا ہے تو اب یہ سوچتا ہوں

کہ میری سمت نہ آئے گا کوئی پتھر کیا

ضمیر زندہ و بیدار بن گیا ہوں میں

قلندری یہ نہیں ہے تو پھر قلندر کیا

Monday, 31 January 2022

کہتے ہیں کچھ نہ سنتے ہیں خالد کسی سے ہم

 کہتے ہیں کچھ نہ سنتے ہیں خالد کسی سے ہم

دن رات کھیلتے ہیں غمِ بے کسی سے ہم

دزدیدہ اک نگاہ تیری دل کو لے اُڑی

منہ دیکھتے ہی رہ گئے کس بیکسی سے ہم

اچھا کیا کہ تُو نے خود آزاد کر دیا

عاجز بھی آ گئے تھے تیری بندگی سے ہم

Friday, 28 January 2022

جو کہہ چکا ہوں اس سے مکرتا نہیں ہوں میں

 جو کہہ چکا ہوں اس سے مکرتا نہیں ہوں میں

اپنے سوا کسی سے بھی ڈرتا نہیں ہوں میں

ہر چند اپنے ظرف میں رہتا نہیں ہوں میں

لیکن یہی کہ دشت ہوں دریا نہیں ہوں میں

میں دور سے سرابِ نظر ہوں نظر سے دور

دیکھو جو مجھ کو پاس سے ایسا نہیں ہوں میں

Wednesday, 26 January 2022

وقت وداع تیرہ شبی ہے گجر بجاؤ

 وقت وداعِ تیرہ شبی ہے گجر بجاؤ

دامانِ شب میں آگ لگی ہے گجر بجاؤ

پھوٹی شعاع نور، افق کی کمان سے

تاریکیوں کے دم پہ بنی ہے گجر بجاؤ

غنچے کھلے، نسیم چلی، جاگ اٹھے طیور

صحن چمن میں دھوم مچی ہے گجر بجاؤ

Tuesday, 25 January 2022

آواز آئینے میں نہ گر خود نمائی دے

 آواز آئینے میں نہ گر خود نمائی دے

قطرہ دکھائی دے نہ سمندر دکھائی دے

کہئے کہ اب کہاں کوئی جا کر دہائی دے

باہر کا سارا شور جب اندر سنائی دے

اب جسم و جاں کو کس کی امانت میں سونپیۓ

جب دوستوں کے ہاتھ میں خنجر دکھائی دے

Saturday, 22 January 2022

مقتولو محروموں اب پہچان میں کیا شے حائل ہے

 مقتولو! محروموں، اب پہچان میں کیا شے حائل ہے

"ہر قاتل کے چہرے پر یہ صاف لکھا ہے "قاتل ہے

تم چاہو تو، اب بھی کشتی پار لگانا ممکن ہے

دائیں ہاتھ بھنور ہے تم سے، بائیں ہاتھ پہ ساحل ہے

دشمن گو کمزور نہیں، پر اس کے زخم بھی گن دیکھو

جتنے گھائل تم ہو یارو!، وہ بھی اتنا گھائل ہے

Thursday, 20 January 2022

حدیث شیشہ و سنگ ستمگری کیا ہے

 حدیثِ شیشہ و سنگِ ستم گری کیا ہے

یہ زندگی ہے، تو آخر یہ زندگی کیا ہے

گھروں میں چین سہی بستیوں میں امن سہی

تو پھر یہ آگ دلوں میں لگی ہوئی کیا ہے

ابھی تو غنچہ و گل سے شرار برسیں گے

ابھی بہار کا آغاز ہے،۔ ابھی کیا ہے

Monday, 17 January 2022

آنکھوں میں اشک لب پہ ہنسی چاہتا ہوں میں

 آنکھوں میں اشک لب پہ ہنسی چاہتا ہوں میں

جو آپ چاہتے ہیں وہی چاہتا ہوں میں

یعنی یہی کہ قفلِ در مے کدہ کھلے

کل چاہتے ہیں آپ ابھی چاہتا ہوں میں

مجرم ہوں میں کہ آج وفا جرم ہی تو ہے

اس جرم کی سزا بھی کڑی چاہتا ہوں میں