پھر ہے نزولِ تیرہ شبی، روشنی کی خیر
اپنوں کی خیر بلکہ ہر ایک اجنبی کی خیر
پھر آدمی کے ہاتھ میں خنجر ہے دوستو
اور میں یہ سوچتا ہوں؛ اب آدمی کی خیر
کیا حُسنِ انتظام ہے،۔ کیا بندوبست ہے
دستِ تہی کی خیر، نہ تاجِ شہی کی خیر
یہ وقت، زندگی پہ بڑا سخت وقت ہے
خود زندگی کے لب پہ ہے اب زندگی کی خیر
تشنہ لبوں نے صورتِ دریا تو دیکھ لی
دریا کی خیر، آپ کی دریا دلی کی خیر
مانگ اے طلوعِ صبحِ نجات و حیاتِ نو
اس ظلمتِ تمام میں دیدہ وری کی خیر
کس نامراد دور میں جینا پڑا ہمیں
اب شاعری کی خیر نہ پیغمبری کی خیر
پتھر ہے دستِ شیشہ گراں کا نصیب آج
خالد یہ حال ہو تو بھلا کیا کسی کی خیر
خالد علیگ
No comments:
Post a Comment