Showing posts with label صبا اکبر آبادی. Show all posts
Showing posts with label صبا اکبر آبادی. Show all posts

Wednesday, 24 July 2024

غبار جاں ہے فدائے محمد عربی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


غبارِ جاں ہے فدائے محمدﷺ عربی

اُڑی ہے لے کے ہوائے محمدﷺ عربی

وسیلہ کیا ہے سوائے محمدﷺ عربی

خدا بھی ہے تو خدائے محمدﷺ عربی

چمن حیات کا برسوں سے تھا خزاں دیدہ

بہار آئی جو آئے محمدﷺ عربی

Thursday, 13 July 2023

رکھنی ہے ہمیں اس وطن پاک کی عزت

 نصر من اللہ (رزمیہ کلام)


رکھنی ہے ہمیں اس وطن پاک کی عزت

ہم پایۂ گردوں ہے اسی خاک کی عزت

رہنی ہے غلام شہِ لولاکﷺ کی عزت

رکھے گا خدا جذبۂ بے باک کی عزت

اللہ نگہبان ہے اس پاک چمن کا

ہر فرد محافظ ہے یہاں اپنے وطن کا

Tuesday, 27 June 2023

حبیب رب العلا محمد شفیع روز جزا محمد

عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


حبیب رب العلا محمدﷺ شفیعِ روزِ جزا محمدﷺ

نگاہ کا مدعا محمدﷺ، خیال کا آسرا محمدﷺ

انہی سے دنیا میں روشنی ہے انہی سے عرفان وآگہی ہے

ہیں آفتابِ جہاں محمدﷺ، جمالِ نورِ خدا محمدﷺ

یہی ہیں زخمِ جگر کا مرہم انہی کا ہے اسم، اسمِ اعظم

قرار بے تابیوں کو آیا، زباں سے جب کہہ دیا محمدﷺ

Friday, 16 June 2023

دارالاماں یہی ہے حریم خدا کے بعد

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دارالاماں یہی ہے حریمِ خدا کے بعد

ہم کس کے در پہ جائیں درِ مصطفیٰؐ کے بعد

پُر نُور کتنا خاکِ مدینہ سے دل ہوا

آئینہ کیسا صاف ہوا ہے جِلا کے بعد

روزِ جزا سے قبل شفاعت کریں گے آپؐ

جنّت بھی آپؐ بخشیں گے روزِ جزا کے بعد

Wednesday, 17 August 2022

جو قلب و نظر میں سمایا مدینہ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جو قلب و نظر میں سمایا مدینہ

چلے جس طرف ہم تو آیا مدینہ

وہیں جیسے جنت کا در کُھل گیا ہے

ذرا جو تصور میں آیا مدینہ

جو دنیا نے رنگ اپنے مجھ کو دکھائے

تو پیشِ نظر جگمگایا مدینہ

Monday, 13 December 2021

کوئی وقت سکوں اے گردش ایام آ جائے

کوئی وقتِ سکوں اے گردشِ ایّام آ جائے

قفس کی صبح آ جائے، چمن کی شام آ جائے

ستا اتنا نہ اے آوارگی! ایذا پسندوں کو

تھکیں، اور تھک کے دل میں خواہشِ آرام آ جائے

دُعا کر تشنہ کامی! یہ جمودِ مے کدہ ٹُوٹے

تِری تقدیر سے گردش میں شاید جام آ جائے

Wednesday, 24 November 2021

موڑ لو دل کو مدینے کی طرف

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


موڑ لو دل کو مدینے کی طرف

اب چلو یارو! مدینے کی طرف

شوقِ بے پایاں سے جو لرزاں‌ ہوں

لے چلو مجھ کو مدینے کی طرف

حجِ بیت اللہ سے فارغ ‌ہوئے

آؤ اب دوڑو مدینے کی طرف

Friday, 27 August 2021

پیش نگاہ خاص و عام شام بھی تو سحر بھی تو

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


پیشِ نگاہ خاص و عام، شام بھی تُو، سحر بھی تُو

جلوہ طراز اِدھر بھی تو، روح نواز اُدھر بھی تُو

ایک نگاہ میں ‌جلال، ایک نگاہ میں جمال

منزل طور پر بھی تو، مسند عرش پر بھی تُو

عجز و نیاز بندگی تیری نوازشوں سے ہے

حاکمِ ہر دعا بھی تُو، بارگہِ اثر بھی تُو

Thursday, 6 August 2020

منزل پہ پہنچنے کا مجھے شوق ہوا تیز

منزل پہ پہنچنے کا مجھے شوق ہوا تیز
رستہ ملا دشوار، تو میں اور چلا تیز
ہاتھوں کو ڈبو آۓ ہو تم کس کے لہو میں
پہلے تو کبھی اتنا نہ تھا رنگِ حنا تیز
مجھ کو یہ ندامت ہے کہ میں سخت گلو تھا
تجھ سے یہ شکایت ہے کہ خنجر نہ کیا تیز

فصل گل جا مرے دل سے ترا ارمان گیا

حسن جو رنگ خزاں میں ہے وہ پہچان گیا
فصلِ گل جا مِرے دل سے تِرا ارمان گیا
تُو خداوندِ محبت ہے، میں پہچان گیا
دل سا ضدی تِری نظروں کا کہا مان گیا
آئینہ خانہ سے ہوتا ہوا حیران گیا
خود فراموش ہوا جو تمہیں پہچان گیا

Thursday, 6 October 2016

حسین نزہت باغ پیمبر عربی

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہبر امام حسینؑ

حسینؑ نزہتِ باغِ پیمبرِ عربیؐ
حسینؑ نازشِ فاقہ، وقارِ تشنہ لبی​
حسینؑ مرکزِ ایثار و مخزنِ تسلیم
حسینؑ شمعِ حقیقت، چراغِ بزمِ نبیؐ
حسینؑ لختِ دلِ مرتضٰیؑ و جانِ بتولؑ
جہاں میں کس کو میسر ہے یہ علو نسبی

بنت نبی کی گود کا پالا ہوا حسین

عارفانہ کلام منقبت سلام امام حسینؑ

بنتِؑ نبیؐ کی گود کا پالا ہوا حسینؑ 
انوارِ سرمدی سے اجالا ہوا حسینؑ
ناناؐ کی تربیت سے سنبھالا ہوا حسینؑ
سانچے میں‌ اعتبار کے ڈھالا ہوا حسینؑ
تنہا امین مصحفِ پروردگار کا
وارث نبیؐ کے حلم کا اور ذوالفقار کا

تیری نظر ہے میرا دل ہے کیا کیا جائے

تیری نظر ہے میرا دل ہے کیا کِیا جائے
جنوں خِرد کے مقابل ہے کیا کِیا جائے
ہم اپنے غم کا فسانہ سنانے آئے تھے
مگر یہ آپ کی محفل ہے کیا کِیا جائے 
جھکا دیا ہے محبت نے آپ کے در پر
جبِیں اٹھاؤں یہ مشکل ہے کیا کِیا جائے

اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں

اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں
عشق ہی عشق کی قیمت ہو ضروری تو نہیں
ایک دن آپ کی برہم نِگہی دیکھ چکے
روز اک تازہ قیامت ہو ضروری تو نہیں 
میری شمعوں کو ہواؤں نے بجھایا ہو گا
یہ بھی ان کی شرارت ہو ضروری تو نہیں

Thursday, 19 November 2015

غم میں یکساں بسر نہیں ہوتی

غم میں یکساں بسر نہیں ہوتی
شب کوئی بے سحر نہیں ہوتی
فرق ہے شمع و جلوہ میں ورنہ
روشنی کس کے گھر نہیں ہوتی
یا مِرا ظرفِ کیف بڑھ جاتا
یا شراب اس قدر نہیں ہوتی

پوچھیں ترے ظلم کا سبب ہم

پوچھیں تِرے ظلم کا سبب ہم
اتنے تو نہیں ہیں بے ادب ہم
الزام نہیں ہے فصلِ گل پر
خود اپنے جنوں کا ہیں سبب ہم
مافوقِ حدودِ جستجو تم
آوارۂ منزلِ طلب ہم

Monday, 2 November 2015

جوانی زندگانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

جوانی زندگانی ہے نہ تم سمجھے، نہ ہم سمجھے
یہ اک ایسی کہانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
ہمارے اور تمہارے واسطے میں اک نیا پن تھا
مگر دنیا پرانی ہے نہ تم سمجھے، نہ ہم سمجھے
عیاں کر دی ہر اک پر ہم نے اپنی داستانِ دل
یہ کس کس سے چھپانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

یگانہ بن کے ہو جائے وہ بے گانہ تو کیا ہو گا

یگانہ بن کے ہو جائے وہ بیگانہ تو کیا ہو گا
جو پہچانا تو کیا ہو گا، نہ پہچانا تو کیا ہو گا
کسی کو کیا خبر آنسو ہیں کیوں چشمِ محبت میں
فغاں سے گونج اٹھے گا جو ویرانہ تو کیا ہو گا
ہماری سی محبت تم کو ہم سے ہو تو کیا گزرے
بنا دے شمع کو بھی عشق پروانہ تو کیا ہو گا

کعبہ ہے کہ بتخانہ مجھے ہوش نہیں ہے

کعبہ ہے کہ بت خانہ مجھے ہوش نہیں ہے
اک لذتِ سجدہ ہے جو محسوس جبیں ہے
دل وہمِ بہاراں میں گرفتار نہیں ہے
صرف اپنے نشیمن کی تباہی کا یقیں ہے
خواہش ہے کہ حاصل مجھے دنیا بھی ہو دِیں بھی
محسوس یہ ہوتا ہے کہ دنیا ہے نہ دِیں ہے

دنيا سے بچ كے قبر كے چكر ميں قيد ہوں

دنيا سے بچ كے قبر كے چكر ميں قيد ہوں
اُس گھر سے چھٹ گيا ہوں تو اِس گھر ميں قيد ہوں
عالم کی وسعتوں میں کہیں بھی رہوں، مگر
اپنی جگہ نگاہِ ستم گر ميں قيد ہوں
دريا كی لہر كہئے تو ساحل كی قيد ہے
ہوں جرعۂ شراب تو ساغر ميں قيد ہوں