عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
غبارِ جاں ہے فدائے محمدﷺ عربی
اُڑی ہے لے کے ہوائے محمدﷺ عربی
وسیلہ کیا ہے سوائے محمدﷺ عربی
خدا بھی ہے تو خدائے محمدﷺ عربی
چمن حیات کا برسوں سے تھا خزاں دیدہ
بہار آئی جو آئے محمدﷺ عربی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
غبارِ جاں ہے فدائے محمدﷺ عربی
اُڑی ہے لے کے ہوائے محمدﷺ عربی
وسیلہ کیا ہے سوائے محمدﷺ عربی
خدا بھی ہے تو خدائے محمدﷺ عربی
چمن حیات کا برسوں سے تھا خزاں دیدہ
بہار آئی جو آئے محمدﷺ عربی
نصر من اللہ (رزمیہ کلام)
رکھنی ہے ہمیں اس وطن پاک کی عزت
ہم پایۂ گردوں ہے اسی خاک کی عزت
رہنی ہے غلام شہِ لولاکﷺ کی عزت
رکھے گا خدا جذبۂ بے باک کی عزت
اللہ نگہبان ہے اس پاک چمن کا
ہر فرد محافظ ہے یہاں اپنے وطن کا
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
حبیب رب العلا محمدﷺ شفیعِ روزِ جزا محمدﷺ
نگاہ کا مدعا محمدﷺ، خیال کا آسرا محمدﷺ
انہی سے دنیا میں روشنی ہے انہی سے عرفان وآگہی ہے
ہیں آفتابِ جہاں محمدﷺ، جمالِ نورِ خدا محمدﷺ
یہی ہیں زخمِ جگر کا مرہم انہی کا ہے اسم، اسمِ اعظم
قرار بے تابیوں کو آیا، زباں سے جب کہہ دیا محمدﷺ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دارالاماں یہی ہے حریمِ خدا کے بعد
ہم کس کے در پہ جائیں درِ مصطفیٰؐ کے بعد
پُر نُور کتنا خاکِ مدینہ سے دل ہوا
آئینہ کیسا صاف ہوا ہے جِلا کے بعد
روزِ جزا سے قبل شفاعت کریں گے آپؐ
جنّت بھی آپؐ بخشیں گے روزِ جزا کے بعد
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جو قلب و نظر میں سمایا مدینہ
چلے جس طرف ہم تو آیا مدینہ
وہیں جیسے جنت کا در کُھل گیا ہے
ذرا جو تصور میں آیا مدینہ
جو دنیا نے رنگ اپنے مجھ کو دکھائے
تو پیشِ نظر جگمگایا مدینہ
کوئی وقتِ سکوں اے گردشِ ایّام آ جائے
قفس کی صبح آ جائے، چمن کی شام آ جائے
ستا اتنا نہ اے آوارگی! ایذا پسندوں کو
تھکیں، اور تھک کے دل میں خواہشِ آرام آ جائے
دُعا کر تشنہ کامی! یہ جمودِ مے کدہ ٹُوٹے
تِری تقدیر سے گردش میں شاید جام آ جائے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
موڑ لو دل کو مدینے کی طرف
اب چلو یارو! مدینے کی طرف
شوقِ بے پایاں سے جو لرزاں ہوں
لے چلو مجھ کو مدینے کی طرف
حجِ بیت اللہ سے فارغ ہوئے
آؤ اب دوڑو مدینے کی طرف
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
پیشِ نگاہ خاص و عام، شام بھی تُو، سحر بھی تُو
جلوہ طراز اِدھر بھی تو، روح نواز اُدھر بھی تُو
ایک نگاہ میں جلال، ایک نگاہ میں جمال
منزل طور پر بھی تو، مسند عرش پر بھی تُو
عجز و نیاز بندگی تیری نوازشوں سے ہے
حاکمِ ہر دعا بھی تُو، بارگہِ اثر بھی تُو