Thursday, 6 October 2016

تیری نظر ہے میرا دل ہے کیا کیا جائے

تیری نظر ہے میرا دل ہے کیا کِیا جائے
جنوں خِرد کے مقابل ہے کیا کِیا جائے
ہم اپنے غم کا فسانہ سنانے آئے تھے
مگر یہ آپ کی محفل ہے کیا کِیا جائے 
جھکا دیا ہے محبت نے آپ کے در پر
جبِیں اٹھاؤں یہ مشکل ہے کیا کِیا جائے
یہ ایک داغِ محبت کہاں چھپا رکھوں
تمام عمر کا حاصل ہے کیا کِیا جائے
یہ احترامِ روایت تو کم نہیں ہو گا 
ہمارے خون میں شامل ہے کیا کِیا جائے

صبا اکبر آبادی

No comments:

Post a Comment