تیری نظر ہے میرا دل ہے کیا کِیا جائے
جنوں خِرد کے مقابل ہے کیا کِیا جائے
ہم اپنے غم کا فسانہ سنانے آئے تھے
مگر یہ آپ کی محفل ہے کیا کِیا جائے
جھکا دیا ہے محبت نے آپ کے در پر
یہ ایک داغِ محبت کہاں چھپا رکھوں
تمام عمر کا حاصل ہے کیا کِیا جائے
یہ احترامِ روایت تو کم نہیں ہو گا
ہمارے خون میں شامل ہے کیا کِیا جائے
صبا اکبر آبادی
No comments:
Post a Comment