Showing posts with label محمد جمال. Show all posts
Showing posts with label محمد جمال. Show all posts

Tuesday, 23 December 2025

منتظر ہیں حادثے ہر گام پر

 منتظر ہیں حادثے ہر گام پر

ہم تو سادہ لوح، اس سے بے خبر

ہم سے ہے مانوس وحشی جانور

آدمیوں سے ہمیں لگتا ہے ڈر

یہ تو ضدی ہیں انہیں سمجھائیں کیا

ان پہ ہوتا ہی نہیں کوئی اثر

Tuesday, 26 August 2025

میرے داتا ترے سوا کیا ہو

 میرے داتا ترے سوا کیا ہو

کسی دربار سے عطا کیا ہو

زندگی زندگی جسے کہئے

اس سے بڑھ کر کوئی بلا کیا ہو

جو کرائے کے گھر بدلتے ہیں

ان کا اک مستقل پتہ کیا ہو

Tuesday, 17 June 2025

جس سے کہ بدل جائے ابھی قوم کی تقدیر

 جس سے کہ بدل جائے ابھی قوم کی تقدیر

ایسی کوئی تقریر، اک ایسی کوئی تقریر

سب لوگ مظالم کے ہوئے جاتے ہیں عادی

اب کوئی نہیں کھینچتا انصاف کی زنجیر

ہتھیار کا ذکر اس میں نہ قاتل کا کوئی نام

تفصیل ہوئی ہے جو مِرے قتل کی تحریر

Monday, 12 July 2021

یہ کہا سب سے دل بیمار نے

یہ کہا سب سے دل بیمار نے

غم دئے ہیں مجھ کو میرے یار نے

دے دیا اپنائیت کا کچھ ثبوت

میرے دامن سے الجھ کر خار نے

ہاں خمیدہ ہو گئی میری کمر

بوجھ اتنا رکھ دیا سرکار نے