منتظر ہیں حادثے ہر گام پر
ہم تو سادہ لوح، اس سے بے خبر
ہم سے ہے مانوس وحشی جانور
آدمیوں سے ہمیں لگتا ہے ڈر
یہ تو ضدی ہیں انہیں سمجھائیں کیا
ان پہ ہوتا ہی نہیں کوئی اثر
منتظر ہیں حادثے ہر گام پر
ہم تو سادہ لوح، اس سے بے خبر
ہم سے ہے مانوس وحشی جانور
آدمیوں سے ہمیں لگتا ہے ڈر
یہ تو ضدی ہیں انہیں سمجھائیں کیا
ان پہ ہوتا ہی نہیں کوئی اثر
میرے داتا ترے سوا کیا ہو
کسی دربار سے عطا کیا ہو
زندگی زندگی جسے کہئے
اس سے بڑھ کر کوئی بلا کیا ہو
جو کرائے کے گھر بدلتے ہیں
ان کا اک مستقل پتہ کیا ہو
جس سے کہ بدل جائے ابھی قوم کی تقدیر
ایسی کوئی تقریر، اک ایسی کوئی تقریر
سب لوگ مظالم کے ہوئے جاتے ہیں عادی
اب کوئی نہیں کھینچتا انصاف کی زنجیر
ہتھیار کا ذکر اس میں نہ قاتل کا کوئی نام
تفصیل ہوئی ہے جو مِرے قتل کی تحریر
یہ کہا سب سے دل بیمار نے
غم دئے ہیں مجھ کو میرے یار نے
دے دیا اپنائیت کا کچھ ثبوت
میرے دامن سے الجھ کر خار نے
ہاں خمیدہ ہو گئی میری کمر
بوجھ اتنا رکھ دیا سرکار نے