جس طرح وقت کی سرحد کا کنارا ہی نہ ہو
دن اسی طور گزارا کہ گزارا ہی نہ ہو
ترکِ الفت کو زمانہ ہوا لیکن اب تک
ایسا لگتا ہے تجھے دل سے اتارا ہی نہ ہو
چپ رہے تو تو لگے جیسے پکارا ہے مجھے
جب پکارے تو لگے جیسے پکارا ہی نہ ہو
جس طرح وقت کی سرحد کا کنارا ہی نہ ہو
دن اسی طور گزارا کہ گزارا ہی نہ ہو
ترکِ الفت کو زمانہ ہوا لیکن اب تک
ایسا لگتا ہے تجھے دل سے اتارا ہی نہ ہو
چپ رہے تو تو لگے جیسے پکارا ہے مجھے
جب پکارے تو لگے جیسے پکارا ہی نہ ہو
سب یقیں بیچ کر سب گماں بیچ کر
میں تونگر ہوں سود و زیاں بیچ کر
جھڑ گئے میری شاخوں سے برگ و ثمر
پھر بہاریں خریدیں خزاں بیچ کر
اک نیا آشیانہ بناؤں گا میں
بر لب میکدہ اک مکاں بیچ کر
سنا ہے جب سے خدا کا کلام راحت ہے
ہر ایک درس کا موضوع عام راحت ہے
کدورتوں سے کشائش ملا نہیں کرتی
جہان بھر کو ہمارا پیام راحت ہے
میں اختیار کے ہوتے ہوئے کہاں خوش تھا
ہوا ہوں جب سے کسی کا غلام راحت ہے
کب خزانہ تلاش کرتا ہوں
آب و دانہ تلاش کرتا ہوں
جس زمانے کو ہے تلاش مری
وہ زمانہ تلاش کرتا ہوں
لے کے دریا کو اپنی مٹھی میں
کوئی پیاسا تلاش کرتا ہوں