Showing posts with label علی حسین عابدی. Show all posts
Showing posts with label علی حسین عابدی. Show all posts

Thursday, 9 April 2026

جس طرح وقت کی سرحد کا کنارا ہی نہ ہو

 جس طرح وقت کی سرحد کا کنارا ہی نہ ہو

دن اسی طور گزارا کہ گزارا ہی نہ ہو

ترکِ الفت کو زمانہ ہوا لیکن اب تک

ایسا لگتا ہے تجھے دل سے اتارا ہی نہ ہو

چپ رہے تو تو لگے جیسے پکارا ہے مجھے

جب پکارے تو لگے جیسے پکارا ہی نہ ہو

Thursday, 12 June 2025

سب یقیں بیچ کر سب گماں بیچ کر

سب یقیں بیچ کر سب گماں بیچ کر

میں تونگر ہوں سود و زیاں بیچ کر

جھڑ گئے میری شاخوں سے برگ و ثمر

پھر بہاریں خریدیں خزاں بیچ کر

اک نیا آشیانہ بناؤں گا میں

بر لب میکدہ اک مکاں بیچ کر

Monday, 9 June 2025

سنا ہے جب سے خدا کا کلام راحت ہے

 سنا ہے جب سے خدا کا کلام راحت ہے

ہر ایک درس کا موضوع عام راحت ہے

کدورتوں سے کشائش ملا نہیں کرتی

جہان بھر کو ہمارا پیام راحت ہے

میں اختیار کے ہوتے ہوئے کہاں خوش تھا

ہوا ہوں جب سے کسی کا غلام راحت ہے

Sunday, 20 June 2021

کب خزانہ تلاش کرتا ہوں

کب خزانہ تلاش کرتا ہوں

آب و دانہ تلاش کرتا ہوں

جس زمانے کو ہے تلاش مری

وہ زمانہ تلاش کرتا ہوں

لے کے دریا کو اپنی مٹھی میں

کوئی پیاسا تلاش کرتا ہوں