Showing posts with label فیضان عارف. Show all posts
Showing posts with label فیضان عارف. Show all posts

Friday, 2 April 2021

ہم ان سے دور ہوتے جا رہے ہیں

 ہم ان سے دور ہوتے جا رہے ہیں

بہت مجبور ہوتے جا رہے ہیں

جنہیں گمنام رہنا چاہئے تھا

وہی مشہور ہوتے جا رہے ہیں

سنبھل جاؤ کہ اب دشمن کے حملے

بہت بھرپور ہوتے جا رہے ہیں

Sunday, 4 October 2020

چھپ چھپ کے محبت کو نہ بدنام کیا جائے

 چھپ چھپ کے محبت کو نہ بدنام کیا جائے

جو کام کیا جائے، سرِ عام کیا جائے

یہ دل کہ تِرے بعد بہلتا ہی نہیں ہے

اب تُو ہی بتا کیسے اسے رام کیا جائے

یہ تو مِرے حرفوں کا تقاضا ہے میری جان

جو شعر لکھا جائے، تِرے نام کیا جائے

Saturday, 3 October 2020

مرے گمان کی حد سے نکلنے والا تھا

مِرے گمان کی حد سے نکلنے والا تھا

وہ مجھ سے پہلے ہی رستہ بدلنے والا تھا

تجھے ہی جانے کی عجلت تھی اے مسافر من

وگرنہ میں بھی تِرے ساتھ چلنے والا تھا

جہاں پہ قافلہ سالار تھک کے بیٹھ گیا

وہیں سے اک نیا رستہ نکلنے والا تھا

Friday, 2 October 2020

اب آ بھی جاؤ مسافر سفر تمام ہوئے

 اب آ بھی جاؤ مسافر، سفر تمام ہوئے

کہ لوٹ آئے پرندے بھی گھر کو شام ہوئے

یہ معجزہ ہے، کوئی حرف معتبر نہ ہوا

جو لفظ آب رواں پر لکھے، دوام ہوئے

ہمیں تو آپ نے بے مول ہی خرید لیا

حضور! آج سے ہم آپ کے غلام ہوئے

Thursday, 1 October 2020

کچھ تو ہمت کرو طوفان اٹھاؤ یارو

 کچھ تو ہمت کرو طوفان اٹھاؤ یارو

بدنما چہروں کو آئینہ دکھاؤ یارو

توڑ ہی ڈالو یہ خاموشی کا جان لیوا طلسم

آپ بیتی، کوئی جگ بیتی سناؤ یارو

کیا خبر، دار سے پھر کون سلامت آئے

آج کی رات کوئی جشن مناؤ یارو

Tuesday, 29 September 2020

وہ بھی کیا دن تھے محبت بھرے دن

 گزرے ہوئے دن


وہ بھی کیا دن تھے، محبت بھرے دن

لفظ جب پانی پہ تحریر ہوا کرتے تھے

خواب تعبیر ہوا کرتے تھے

رات خاموشی سے آ جاتی تھی

دن دبے پاؤں گزر جاتا تھا

قصل کا نشہ رگ و پے میں اتر جاتا تھا

کچھ اہتمام سفر کا ضرور کرنا ہے

 کچھ اہتمام سفر کا ضرور کرنا ہے

کہ اس کے شہر سے ہو کر مجھے گزرنا ہے

میں چپ نہیں ہوں کسی مصلحت کے پیش نظر

میں جانتا ہوں کہاں اختلاف کرنا ہے

ہمارے جسم سے پتھر بندھے ہوئے ہیں مگر

سمندروں کی تہوں سے ہمیں ابھرنا ہے

Sunday, 21 June 2020

نئے شہروں کی جب بنیاد رکھنا

نئے شہروں کی جب بنیاد رکھنا
پرانے شہر بھی آباد رکھنا
پڑی ہو پاؤں میں زنجیر پھر بھی
ہمیشہ ذہن کو آزاد رکھنا
کسی کی یاد جب شدت سے آئے
بہت مشکل ہے خود کو یاد رکھنا

نئے رستوں پہ چلنا چاہتا ہوں

نئے رستوں پہ چلنا چاہتا ہوں
ہوا کا رخ بدلنا چاہتا ہوں
نہ کر مجھ پر اندھیروں کو مسلط
میں سورج ہوں، نکلنا چاہتا ہوں
کسی کے تجربوں کا کیا بھروسہ
میں خود گر کر سنبھلنا چاہتا ہوں

Friday, 21 October 2016

محبتوں میں ہر ایک لمحہ وصال ہو گا یہ طے ہوا تھا

محبتوں میں ہر ایک لمحہ وصال ہو گا، یہ طے ہوا تھا
بچھڑ کے بھی ایک دوسرے کا خیال ہو گا، یہ طے ہوا تھا
وہی ہوا ناں، بدلتے موسم میں تم نے ہم کو بھلا دیا ہے
کوئی بھی رُت ہو نہ چاہتوں کو زوال ہو گا، یہ طے ہوا تھا
یہ کیا کہ سانسیں اکھڑ گئی ہیں سفر کے آغاز میں ہی یارو
کوئی بھی تھک کے نہ راستے میں نڈھال ہو گا، یہ طے ہوا تھا

دعاؤں کے دیے جب جل رہے تھے

دعاؤں کے دِیے جب جل رہے تھے
مِرے غم آنسوؤں میں ڈھل رہے تھے
کسی نیکی کا سایہ تھا سروں پر
جو لمحے آفتوں کے ٹل رہے تھے
ہوا احساس یہ آدھی صدی بعد
یہاں پر صرف رستے چل رہے تھے