ہم ان سے دور ہوتے جا رہے ہیں
بہت مجبور ہوتے جا رہے ہیں
جنہیں گمنام رہنا چاہئے تھا
وہی مشہور ہوتے جا رہے ہیں
سنبھل جاؤ کہ اب دشمن کے حملے
بہت بھرپور ہوتے جا رہے ہیں
ہم ان سے دور ہوتے جا رہے ہیں
بہت مجبور ہوتے جا رہے ہیں
جنہیں گمنام رہنا چاہئے تھا
وہی مشہور ہوتے جا رہے ہیں
سنبھل جاؤ کہ اب دشمن کے حملے
بہت بھرپور ہوتے جا رہے ہیں
چھپ چھپ کے محبت کو نہ بدنام کیا جائے
جو کام کیا جائے، سرِ عام کیا جائے
یہ دل کہ تِرے بعد بہلتا ہی نہیں ہے
اب تُو ہی بتا کیسے اسے رام کیا جائے
یہ تو مِرے حرفوں کا تقاضا ہے میری جان
جو شعر لکھا جائے، تِرے نام کیا جائے
مِرے گمان کی حد سے نکلنے والا تھا
وہ مجھ سے پہلے ہی رستہ بدلنے والا تھا
تجھے ہی جانے کی عجلت تھی اے مسافر من
وگرنہ میں بھی تِرے ساتھ چلنے والا تھا
جہاں پہ قافلہ سالار تھک کے بیٹھ گیا
وہیں سے اک نیا رستہ نکلنے والا تھا
اب آ بھی جاؤ مسافر، سفر تمام ہوئے
کہ لوٹ آئے پرندے بھی گھر کو شام ہوئے
یہ معجزہ ہے، کوئی حرف معتبر نہ ہوا
جو لفظ آب رواں پر لکھے، دوام ہوئے
ہمیں تو آپ نے بے مول ہی خرید لیا
حضور! آج سے ہم آپ کے غلام ہوئے
کچھ تو ہمت کرو طوفان اٹھاؤ یارو
بدنما چہروں کو آئینہ دکھاؤ یارو
توڑ ہی ڈالو یہ خاموشی کا جان لیوا طلسم
آپ بیتی، کوئی جگ بیتی سناؤ یارو
کیا خبر، دار سے پھر کون سلامت آئے
آج کی رات کوئی جشن مناؤ یارو
گزرے ہوئے دن
وہ بھی کیا دن تھے، محبت بھرے دن
لفظ جب پانی پہ تحریر ہوا کرتے تھے
خواب تعبیر ہوا کرتے تھے
رات خاموشی سے آ جاتی تھی
دن دبے پاؤں گزر جاتا تھا
قصل کا نشہ رگ و پے میں اتر جاتا تھا
کچھ اہتمام سفر کا ضرور کرنا ہے
کہ اس کے شہر سے ہو کر مجھے گزرنا ہے
میں چپ نہیں ہوں کسی مصلحت کے پیش نظر
میں جانتا ہوں کہاں اختلاف کرنا ہے
ہمارے جسم سے پتھر بندھے ہوئے ہیں مگر
سمندروں کی تہوں سے ہمیں ابھرنا ہے