ہم ان سے دور ہوتے جا رہے ہیں
بہت مجبور ہوتے جا رہے ہیں
جنہیں گمنام رہنا چاہئے تھا
وہی مشہور ہوتے جا رہے ہیں
سنبھل جاؤ کہ اب دشمن کے حملے
بہت بھرپور ہوتے جا رہے ہیں
کِھلے تھے زخم جو پھولوں کی صورت
وہ اب ناسور ہوتے جا رہے ہیں
سفر تو سوچ کا جاری ہے اور ہم
تھکن سے چُور ہوتے جا رہے ہیں
زمانہ پھیلتا جاتا ہے جتنا
بشر محصور ہوتے جا رہے ہیں
فیضان عارف
No comments:
Post a Comment