Showing posts with label حیدر علی. Show all posts
Showing posts with label حیدر علی. Show all posts

Monday, 20 September 2021

ارتکاب جرم شر کی بات ہے

 ارتکابِ جرم شر کی بات ہے

اور بری ہونا ہُنر کی بات ہے

اک کہانی ہے کہ صدیوں پر محیط

سوچنے میں دو پہر کی بات ہے

آئے ٹھہرے اور روانہ ہو گئے

زندگی کیا ہے، سفر کی بات ہے

Thursday, 16 September 2021

دیکھ جاناں خاک ہیں ہم جسم مٹی سے بنا ہے

حدودِ تخیل


 دیکھ جاناں

خاک ہیں ہم

جسم مٹی سے بنا ہے

اور مٹی کی یقیناً ایک حد ہے

اور تم نے

تم نے بولا

Wednesday, 15 September 2021

یہ نظم جاری رہے گی جاناں سو بد دعاؤں میں یاد رکھنا

 The Half Curse


کسی کا کچھ ہے

کسی کا کچھ نئیں

کسی کا کیا ہے

عجیب لفظوں کی اک کتھا ہے

یہ نظم شاعر کی بدعا ہے

تو جان سن لو

Monday, 13 September 2021

سب رقیبوں کو بتا کر چیختے ہیں

 سب رقیبوں کو بتا کر چیختے ہیں

اس لیے ہم سر اٹھا کر چیختے ہیں

چیخ میں چیخیں ملا کر چیختے ہیں

جب کبھی ہم مسکرا کر چیختے ہیں

وہ یقیناً ایک ہجرت کر چکے ہیں

جو پرندے چہچہا کر چیختے ہیں

Sunday, 29 November 2020

ہم شاہ جہاں کے ہتھ کٹے مزدور تک گئے

 ہم شاہ جہاں کے ہتھ کٹے مزدور تک گئے

فاقہ اور فکر ایک ساتھ تندور تک گئے

موسیٰ کے سوا کوئی بھی زندہ نہیں بچا

جو لوگ خدا دیکھنے کوہِ طور تک گئے

اندھیرے میں اندھیرا ہی میرا ساتھی تھا

ہم روشنی کے دھوکے میں بڑی دور تک گئے

Thursday, 12 November 2020

میرا کام وہی میرے طور الگ

 وسعتِ ذات


میرا کام وہی، میرے طور الگ

میری سوچ نئی، میرا غور الگ

میرا ساز نیا، میرا شور الگ

میرا وجد جدا، میرا زور الگ

میرا اپنا پتنگ، میری ڈور الگ

میرے کرگس، چیلیں، مور الگ