ارتکابِ جرم شر کی بات ہے
اور بری ہونا ہُنر کی بات ہے
اک کہانی ہے کہ صدیوں پر محیط
سوچنے میں دو پہر کی بات ہے
آئے ٹھہرے اور روانہ ہو گئے
زندگی کیا ہے، سفر کی بات ہے
ارتکابِ جرم شر کی بات ہے
اور بری ہونا ہُنر کی بات ہے
اک کہانی ہے کہ صدیوں پر محیط
سوچنے میں دو پہر کی بات ہے
آئے ٹھہرے اور روانہ ہو گئے
زندگی کیا ہے، سفر کی بات ہے
حدودِ تخیل
دیکھ جاناں
خاک ہیں ہم
جسم مٹی سے بنا ہے
اور مٹی کی یقیناً ایک حد ہے
اور تم نے
تم نے بولا
The Half Curse
کسی کا کچھ ہے
کسی کا کچھ نئیں
کسی کا کیا ہے
عجیب لفظوں کی اک کتھا ہے
یہ نظم شاعر کی بدعا ہے
تو جان سن لو
سب رقیبوں کو بتا کر چیختے ہیں
اس لیے ہم سر اٹھا کر چیختے ہیں
چیخ میں چیخیں ملا کر چیختے ہیں
جب کبھی ہم مسکرا کر چیختے ہیں
وہ یقیناً ایک ہجرت کر چکے ہیں
جو پرندے چہچہا کر چیختے ہیں
ہم شاہ جہاں کے ہتھ کٹے مزدور تک گئے
فاقہ اور فکر ایک ساتھ تندور تک گئے
موسیٰ کے سوا کوئی بھی زندہ نہیں بچا
جو لوگ خدا دیکھنے کوہِ طور تک گئے
اندھیرے میں اندھیرا ہی میرا ساتھی تھا
ہم روشنی کے دھوکے میں بڑی دور تک گئے
وسعتِ ذات
میرا کام وہی، میرے طور الگ
میری سوچ نئی، میرا غور الگ
میرا ساز نیا، میرا شور الگ
میرا وجد جدا، میرا زور الگ
میرا اپنا پتنگ، میری ڈور الگ
میرے کرگس، چیلیں، مور الگ