Showing posts with label ضمیر اترولوی. Show all posts
Showing posts with label ضمیر اترولوی. Show all posts

Friday, 23 September 2022

خاک زادے خاک میں یا خاک پر ہیں آج بھی

 خاک زادے خاک میں یا خاک پر ہیں آج بھی

سامنے اک کوزہ گر کے چاک پر ہیں آج بھی

یہ نہ جانا کس طرف سے آئی چنگاری مگر

تہمتیں ساری خس و خاشاک پر ہیں آج بھی

جس تکبر کی بدولت چھن گئے ان کے حقوق

اس کے اثراتِ رعونت ناک پر ہیں آج بھی

Thursday, 15 September 2022

یہ کیسا کام اے دست مسیح کر ڈالا

 یہ کیسا کام اے دستِ مسیح! کر ڈالا

جو دل کا زخم تھا وہ ہی صحیح کر ڈالا

شبِ سیاہ کا چہرہ اداس دیکھا تو

نکل کے چاند نے اس کو ملیح کر ڈالا

ذرا سا جھانک کے تاریکیوں سے سورج نے

ملیح چہرۂ شب کو صبیح کر ڈالا

Monday, 12 September 2022

جدا اس جسم سے ہو کر کہیں تحلیل ہو جاتا

 جدا اس جسم سے ہو کر کہیں تحلیل ہو جاتا

فنا ہوتے ہی لافانی میں میں تبدیل ہو جاتا

مِرے پیچھے اگر ابلیس کو آنے نہ دیتا تو

سراپا میں تِرے ہر حکم کی تعمیل ہو جاتا

جو ہوتا اختیار اپنے مقدر کو بدلنے کا

تمناؤں کی میں اک صورتِ تکمیل ہو جاتا

Sunday, 11 September 2022

امیروں کے برے اطوار کو جو ٹھیک سمجھے ہے

 امیروں کے بُرے اطوار کو جو ٹھیک سمجھے ہے

مِری حق بات کو وہ قابلِ تشکیک سمجھے ہے

بہت مُشکل ہے جو اس کی غریبی دُور ہو جائے

عجب خوددار ہے امداد کو بھی بھیک سمجھے ہے

مِرے بارے میں اس کے کان بھرتا ہے کوئی شاید

بیاں توصیف کرتا ہوں، تو وہ تضحیک سمجھے ہے

Sunday, 18 July 2021

راحتوں کے دھوکے میں اضطراب ڈھونڈے ہیں

 راحتوں کے دھوکے میں اضطراب ڈُھونڈے ہیں

ہم نے اپنی خاطر ہی خود عذاب ڈھونڈے ہیں

یہ تو اُس کی عادت ہے روز گُل مسلتا ہے

آج بھی مسلنے کو کچھ گُلاب ڈھونڈے ہیں

رات آندھی آنے پر اُڑ گئے تھے خیمے سب

غافلوں نے مشکل سے کچھ طناب ڈھونڈے ہیں