خاک زادے خاک میں یا خاک پر ہیں آج بھی
سامنے اک کوزہ گر کے چاک پر ہیں آج بھی
یہ نہ جانا کس طرف سے آئی چنگاری مگر
تہمتیں ساری خس و خاشاک پر ہیں آج بھی
جس تکبر کی بدولت چھن گئے ان کے حقوق
اس کے اثراتِ رعونت ناک پر ہیں آج بھی
خاک زادے خاک میں یا خاک پر ہیں آج بھی
سامنے اک کوزہ گر کے چاک پر ہیں آج بھی
یہ نہ جانا کس طرف سے آئی چنگاری مگر
تہمتیں ساری خس و خاشاک پر ہیں آج بھی
جس تکبر کی بدولت چھن گئے ان کے حقوق
اس کے اثراتِ رعونت ناک پر ہیں آج بھی
یہ کیسا کام اے دستِ مسیح! کر ڈالا
جو دل کا زخم تھا وہ ہی صحیح کر ڈالا
شبِ سیاہ کا چہرہ اداس دیکھا تو
نکل کے چاند نے اس کو ملیح کر ڈالا
ذرا سا جھانک کے تاریکیوں سے سورج نے
ملیح چہرۂ شب کو صبیح کر ڈالا
جدا اس جسم سے ہو کر کہیں تحلیل ہو جاتا
فنا ہوتے ہی لافانی میں میں تبدیل ہو جاتا
مِرے پیچھے اگر ابلیس کو آنے نہ دیتا تو
سراپا میں تِرے ہر حکم کی تعمیل ہو جاتا
جو ہوتا اختیار اپنے مقدر کو بدلنے کا
تمناؤں کی میں اک صورتِ تکمیل ہو جاتا
امیروں کے بُرے اطوار کو جو ٹھیک سمجھے ہے
مِری حق بات کو وہ قابلِ تشکیک سمجھے ہے
بہت مُشکل ہے جو اس کی غریبی دُور ہو جائے
عجب خوددار ہے امداد کو بھی بھیک سمجھے ہے
مِرے بارے میں اس کے کان بھرتا ہے کوئی شاید
بیاں توصیف کرتا ہوں، تو وہ تضحیک سمجھے ہے
راحتوں کے دھوکے میں اضطراب ڈُھونڈے ہیں
ہم نے اپنی خاطر ہی خود عذاب ڈھونڈے ہیں
یہ تو اُس کی عادت ہے روز گُل مسلتا ہے
آج بھی مسلنے کو کچھ گُلاب ڈھونڈے ہیں
رات آندھی آنے پر اُڑ گئے تھے خیمے سب
غافلوں نے مشکل سے کچھ طناب ڈھونڈے ہیں