Thursday, 15 September 2022

یہ کیسا کام اے دست مسیح کر ڈالا

 یہ کیسا کام اے دستِ مسیح! کر ڈالا

جو دل کا زخم تھا وہ ہی صحیح کر ڈالا

شبِ سیاہ کا چہرہ اداس دیکھا تو

نکل کے چاند نے اس کو ملیح کر ڈالا

ذرا سا جھانک کے تاریکیوں سے سورج نے

ملیح چہرۂ شب کو صبیح کر ڈالا

میں کیسے عقل کا پیکر سمجھ لوں انساں کو

خود اپنی زیست کو جس نے قبیح کر ڈالا

کل اس نے چھیڑ کے محفل میں تذکرہ میرا

ہر ایک عیب و ہنر کو صریح کر ڈالا

تمہاری داستاں اُلجھی ہوئی تھی وہموں میں

دعائیں دو ہمیں، ہم نے فصیح کر ڈالا


ضمیر اترولوی

No comments:

Post a Comment