کس نے رودادِ غم سنی ہے دوست
شہر کا شہر مطلبی ہے دوست
شب کے بُجھتے ہوئے چراغوں کی
کیوں ہواؤں سے دوستی ہے دوست
کس طرح کوئی غم چھپاؤں میں
ماں تو چہرے کو دیکھتی ہے دوست
کس نے رودادِ غم سنی ہے دوست
شہر کا شہر مطلبی ہے دوست
شب کے بُجھتے ہوئے چراغوں کی
کیوں ہواؤں سے دوستی ہے دوست
کس طرح کوئی غم چھپاؤں میں
ماں تو چہرے کو دیکھتی ہے دوست
آگہی کرب ہے
یار دنیا کسی نے کہا تھا کہ اک فاحشہ ہے
بھلا مفلسی کے نوالوں پہ پلتے ہوئے لوگ مر جائیں کیا؟
زندگی گلتی سڑتی ہوئی لاش ہے
جانتے ہو نا تم، نہیں جاننا تھا
تعفن چپھا کر کھلے دل سے ہنسنا سبھی کا ہنر تو نہیں
جدائی آن پہنچی تھی
مجھے اس نے کہا؛ جاناں تمہیں میرے بنا بھی ہنستے رہنا ہے
اسے میں نے کہا؛ میری ہنسی میری خوشی تم ہو
چلو تم کہہ رہے تو
بچھڑ کر خوش رہوں گی میں
مگر میں مر بھی سکتی ہوں
کل تو ویسے بھی کوچ کرنا ہے
آج اک دوسرے کی بانہوں میں
شب گزاری کا کچھ سبب کر لیں
کل تو ویسے بھی کوچ کرنا ہے
بے خیالی کے زرد خاکوں میں
رنگ کچھ خواہشات کا بھر لیں
کل تو ویسے بھی کوچ کرنا ہے
تمہارے بعد جینا سانحہ تھا
مصیبت تھی مگر جینا پڑا تھا
میں کچی عمر میں بوڑھی ہوئی تھی
مِرا دُکھ جو مِرے قد سے بڑا تھا
کہ اس سے دل بھرا تو چھوڑ آئے
محبت کیا تمہارا مشغلہ تھا؟
آگہی کرب ہے
یار دنیا کسی نے کہا تھا؛ کہ اک فاحشہ ہے
بھلا مفلسی کے نوالوں پہ پلتے ہوئے لوگ مر جائیں کیا؟
زندگی گلتی سڑتی ہوئی لاش ہے
جانتے ہو نا تم، نہیں جاننا تھا
تعفن چھپا کر کھلے دل سے ہنسنا سبھی کا ہنر تو نہیں
کس نے روداد غم سنی ہے دوست
شہر کا شہر مطلبی ہے دوست
شب کے بجھتے ہوئے چراغوں کی
کیوں ہواؤں سے دوستی ہے دوست
کس طرح کوئی غم چھپاؤں میں
ماں تو چہرے کو دیکھتی ہے دوست