Showing posts with label جاناں شاہ. Show all posts
Showing posts with label جاناں شاہ. Show all posts

Thursday, 8 December 2022

کس نے روداد غم سنی ہے دوست

 کس نے رودادِ غم سنی ہے دوست

شہر کا شہر مطلبی ہے دوست

شب کے بُجھتے ہوئے چراغوں کی

کیوں ہواؤں سے دوستی ہے دوست

کس طرح کوئی غم چھپاؤں میں

ماں تو چہرے کو دیکھتی ہے دوست

Thursday, 17 March 2022

یار دنیا کسی نے کہا تھا کہ اک فاحشہ ہے

 آگہی کرب ہے


یار دنیا کسی نے کہا تھا کہ اک فاحشہ ہے

بھلا مفلسی کے نوالوں پہ پلتے ہوئے لوگ مر جائیں کیا؟

زندگی گلتی سڑتی ہوئی لاش ہے

جانتے ہو نا تم، نہیں جاننا تھا

تعفن چپھا کر کھلے دل سے ہنسنا سبھی کا ہنر تو نہیں

Saturday, 25 September 2021

جاناں تمہیں میرے بنا بھی ہنستے رہنا ہے

 جدائی آن پہنچی تھی


مجھے اس نے کہا؛ جاناں تمہیں میرے بنا بھی ہنستے رہنا ہے

اسے میں نے کہا؛ میری ہنسی میری خوشی تم ہو

چلو تم کہہ رہے تو

بچھڑ کر خوش رہوں گی میں

مگر میں مر بھی سکتی ہوں

Friday, 3 September 2021

آج اک دوسرے کی بانہوں میں شب گزاری

 کل تو ویسے بھی کوچ کرنا ہے


آج اک دوسرے کی بانہوں میں

شب گزاری کا کچھ سبب کر لیں

کل تو ویسے بھی کوچ کرنا ہے

بے خیالی کے زرد خاکوں میں

رنگ کچھ خواہشات کا بھر لیں

کل تو ویسے بھی کوچ کرنا ہے

Saturday, 3 July 2021

تمہارے بعد جینا سانحہ تھا

 تمہارے بعد جینا سانحہ تھا

مصیبت تھی مگر جینا پڑا تھا

میں کچی عمر میں بوڑھی ہوئی تھی

مِرا دُکھ جو مِرے قد سے بڑا تھا

کہ اس سے دل بھرا تو چھوڑ آئے

محبت کیا تمہارا مشغلہ تھا؟

Saturday, 5 December 2020

آگہی کرب ہے

آگہی کرب ہے


یار دنیا کسی نے کہا تھا؛ کہ اک فاحشہ ہے

بھلا مفلسی کے نوالوں پہ پلتے ہوئے لوگ مر جائیں کیا؟

زندگی گلتی سڑتی ہوئی لاش ہے

جانتے ہو نا تم، نہیں جاننا تھا

تعفن چھپا کر کھلے دل سے ہنسنا سبھی کا ہنر تو نہیں

کس نے روداد غم سنی ہے دوست

کس نے روداد غم سنی ہے دوست

شہر کا شہر مطلبی ہے دوست

شب کے بجھتے ہوئے چراغوں کی

کیوں ہواؤں سے دوستی ہے دوست

کس طرح کوئی غم چھپاؤں میں

ماں تو چہرے کو دیکھتی ہے دوست