ہر تباہی میں شامل ترا نام ہے
کیا مہذّب ممالک کا یہ کام ہے؟
ظلم و عروان چاروں طرف عام ہے
بیوہ ہیں عورتیں اور بچے یتیم
عزتوں کا کھلے عام نیلام ہے
ہر تباہی میں شامل ترا نام ہے
ہر تباہی میں شامل ترا نام ہے
کیا مہذّب ممالک کا یہ کام ہے؟
ظلم و عروان چاروں طرف عام ہے
بیوہ ہیں عورتیں اور بچے یتیم
عزتوں کا کھلے عام نیلام ہے
ہر تباہی میں شامل ترا نام ہے
حشر ایسا ہوا نہیں ہوتا
ایک ہوتے تو کیا نہیں ہوتا
مل کے رہتے تو زندگی رہتی
پست پھر حوصلہ نہیں ہوتا
جھوٹ رسوائیاں ہی دیتا ہے
شرم سے سر جھکا نہیں ہوتا
شاخ پر پھول کچھ ادھ جلے آ گئے
زندگی میں مِری دوغلے آ گئے
شام تو ہو گئی میکدے میں، مگر
روشنی ہو گئی، دل جلے آ گئے
وقت نے بھی دیا ساتھ کچھ یوں مِرا
زندگی میں عجب ولولے آ گئے
وہ سراپا رہا سہا اُس کا
منتظر ہو گا آئینہ اس کا
عشق اُس نے کبھی کیا ہو گا
رکھ رکھاؤ بتا گیا اس کا
اُس کا ملنا محال تھا، یہ تو
خوشبوؤں نے دیا پتہ اس کا
کاروبارِ عتاب ہونا ہے
اب فقط احتساب ہونا ہے
کون، کب، کس طرح رہا یارو
روزِ محشر حساب ہونا ہے
خواب میں کل مجھے لگا ایسے
عشق ان سے، جناب! ہونا ہے
زندگی بھر خزاؤں میں رہنا
کس لیے بے وفاؤں میں رہنا
جا رہا ہوں تِرے نگر سے، مجھے
اب نہیں ان خداؤں میں رہنا
مار ڈالے گی غم کی ارزانی
کم کرو انتہاؤں میں رہنا
کب کسی کا خیال کرتے ہیں
رتجگے بھی کمال کرتے ہیں
لفظ جب پیرہن گنوا بیٹھیں
لوگ کیا کیا سوال کرتے ہیں
زندگی نے سکھا دیا سب کچھ
اب کوئی ہم ملال کرتے ہیں