Showing posts with label معین ناصر. Show all posts
Showing posts with label معین ناصر. Show all posts

Monday, 12 August 2024

ہر تباہی میں شامل ترا نام ہے

 ہر تباہی میں شامل ترا نام ہے

کیا مہذّب ممالک کا یہ کام ہے؟

ظلم و عروان چاروں طرف عام ہے

بیوہ ہیں عورتیں اور بچے یتیم

عزتوں کا کھلے عام نیلام ہے

ہر تباہی میں شامل ترا نام ہے

Wednesday, 5 April 2023

حشر ایسا ہوا نہیں ہوتا

 حشر ایسا ہوا نہیں ہوتا

ایک ہوتے تو کیا نہیں ہوتا

مل کے رہتے تو زندگی رہتی

پست پھر حوصلہ نہیں ہوتا

جھوٹ رسوائیاں ہی دیتا ہے

شرم سے سر جھکا نہیں ہوتا

Monday, 20 September 2021

شاخ پر پھول کچھ ادھ جلے آ گئے

 شاخ پر پھول کچھ ادھ جلے آ گئے

زندگی میں مِری دوغلے آ گئے

شام تو ہو گئی میکدے میں، مگر

روشنی ہو گئی، دل جلے آ گئے

وقت نے بھی دیا ساتھ کچھ یوں مِرا

زندگی میں عجب ولولے آ گئے

Wednesday, 15 September 2021

وہ سراپا رہا سہا اس کا

 وہ سراپا رہا سہا اُس کا

منتظر ہو گا آئینہ اس کا

عشق اُس نے کبھی کیا ہو گا

رکھ رکھاؤ بتا گیا اس کا

اُس کا ملنا محال تھا، یہ تو

خوشبوؤں نے دیا پتہ اس کا

کاروبار عتاب ہونا ہے

 کاروبارِ عتاب ہونا ہے

اب فقط احتساب ہونا ہے

کون، کب، کس طرح رہا یارو

روزِ محشر حساب ہونا ہے

خواب میں کل مجھے لگا ایسے

عشق ان سے، جناب! ہونا ہے

زندگی بھر خزاؤں میں رہنا

 زندگی بھر خزاؤں میں رہنا

کس لیے بے وفاؤں میں رہنا

جا رہا ہوں تِرے نگر سے، مجھے

اب نہیں ان خداؤں میں رہنا

مار ڈالے گی غم کی ارزانی

کم کرو انتہاؤں میں رہنا

Tuesday, 14 September 2021

کب کسی کا خیال کرتے ہیں

 کب کسی کا خیال کرتے ہیں

رتجگے بھی کمال کرتے ہیں

لفظ جب پیرہن گنوا بیٹھیں

لوگ کیا کیا سوال کرتے ہیں

زندگی نے سکھا دیا سب کچھ

اب کوئی ہم ملال کرتے ہیں