رستہ کسی کو ملے اگر درویشی میں
ہو جائے پھر ختم سفر درویشی میں
چھاؤں دیتا، دھوپ اُٹھاتا رستے میں
میں نے دیکھا ایک شجر درویشی میں
بول تکبر والے، دولت، نام و نمود
او درویشا! کچھ تو ڈر درویشی میں
رستہ کسی کو ملے اگر درویشی میں
ہو جائے پھر ختم سفر درویشی میں
چھاؤں دیتا، دھوپ اُٹھاتا رستے میں
میں نے دیکھا ایک شجر درویشی میں
بول تکبر والے، دولت، نام و نمود
او درویشا! کچھ تو ڈر درویشی میں
میرے اشعار میں رونق مِری تنہائی سے ہے
غم کو سہنے کی سکت غم کی شناسائی سے ہے
تُو کہیں بھی نہیں موجود مگر دل میرا
اب بھی آباد تِری حوصلہ افزائی سے ہے
ٹوٹتے ٹوٹتے یکجا بھی تو ہو جاتے ہیں لوگ
یہ کرشمہ بھی محبت کی توانائی سے ہے
توبہ کی مہلت
کڑکتی بجلیاں ہیں آسماں پر
شور ہے اندھی ہواؤں کا
کہیں اولے برستے ہیں
کہیں بے وقت کی بارش
جہاں دیکھو وہاں تیار ہیں فصلیں
مجھے پتہ نہیں جانے کہاں سے آئے گی
مِری گواہی مگر آسماں سے آئے گی
کسی کی یاد بسیرا کئے ہوئے ہے یہاں
صدا ابھی اِسی خالی مکاں سے آئے گی
میں واقعات کو ترتیب دے رہا ہوں ابھی
نئی کہانی، مِری داستاں سے آئے گی
روحِ مجید امجد سے ملاقات
میں جب بھی نظم لکھتا ہوں تو کلیاتِ مجید امجد
کسی دیوار کی صورت مِرے رستے میں آتی ہے
جہاں سے بچ نکلنے کا
کہیں پر آگے چلنے کا
کوئی رستہ نہیں ملتا
اے دوست جو ایک تھی حویلی
برباد وہ ہو گئی حویلی
دکھ درد ہیں کیا جدا ہمارے
خاموش ہے کیوں مِری حویلی
جب لوگ ارادہ کر چکے تھے
کیسے انہیں روکتی حویلی
کشمیر بنے کیوں پاکستان
شکر خدا کا
ملک تو حاصل کیا ہے ہم نے
جس کا نام ہے پاکستان
جو ہم سب کی ہے پہچان
لیکن اِس میں بسنے والے
دل سے دیکھوں تو وہی چہرہ نظر آتا ہے
جیسا ہوتا تھا کبھی، ویسا نظر آتا ہے
اُس نے دو چار ہی آنسو تو بہائے مِرے ساتھ
چلو کوئی تو یہاں زندہ نظر آتا ہے
برف جذبوں کی حرارت سے کہیں پگھلی ہے
اور، کہیں جاتا ہوا رستہ نظر آتا ہے
اب حویلی میں اُسے ڈھونڈنے تو جاؤ گے
وہ اگر مل بھی گیا تم کہیں کھو جاؤ گے
خالی کمرے میں وہ تصویر دکھائی دے گی
تم جسے دیکھ کے چپ چاپ ہی سو جاؤ گے
پرورش غم کی اگر ہوتی رہی سینے میں
بوجھ تخلیق کا آسانی سے ڈھو جاؤ گے
اس کے جاتے ہی یہ سب کیا ہو گیا
آسماں کا رنگ میلا ہو گیا
روشنی ٹکرا گئی دیوار سے
راستہ کچھ اور لمبا ہو گیا
پہلے اس جیسا مجھے ہونا پڑا
اور پھر وہ میرے جیسا ہو گیا
ہر طرف سینے میں اس کی ہی کھٹک رہتی ہے
جو شفق رنگ کہیں زیرِ فلک رہتی ہے
پوری ہو جاتی اگر کوئی کہانی ہوتی
یہ محبت ہے میاں! اس میں کسک رہتی ہے
اب سمجھ آئی، خوشی کیا ہے دلِ افسردہ
یہ نہ ہو تو کہاں چہروں پہ چمک رہتی ہے