Showing posts with label ظہور چوہان. Show all posts
Showing posts with label ظہور چوہان. Show all posts

Friday, 30 December 2022

رستہ کسی کو ملے اگر درویشی میں

 رستہ کسی کو ملے اگر درویشی میں

ہو جائے پھر ختم سفر درویشی میں

چھاؤں دیتا، دھوپ اُٹھاتا رستے میں

میں نے دیکھا ایک شجر درویشی میں

بول تکبر والے، دولت، نام و نمود

او درویشا! کچھ تو ڈر درویشی میں

Thursday, 24 March 2022

میرے اشعار میں رونق مری تنہائی سے ہے

 میرے اشعار میں رونق مِری تنہائی سے ہے

غم کو سہنے کی سکت غم کی شناسائی سے ہے

تُو کہیں بھی نہیں موجود مگر دل میرا

اب بھی آباد تِری حوصلہ افزائی سے ہے

ٹوٹتے ٹوٹتے یکجا بھی تو ہو جاتے ہیں لوگ

یہ کرشمہ بھی محبت کی توانائی سے ہے

Wednesday, 23 February 2022

ابھی گزرا نہیں ہے وقت توبہ کا ابھی توبہ کی مہلت ہے

 توبہ کی مہلت


کڑکتی بجلیاں ہیں آسماں پر

شور ہے اندھی ہواؤں کا

کہیں اولے برستے ہیں

کہیں بے وقت کی بارش

جہاں دیکھو وہاں تیار ہیں فصلیں

Thursday, 3 February 2022

مجھے پتہ نہیں جانے کہاں سے آئے گی

 مجھے پتہ نہیں جانے کہاں سے آئے گی

مِری گواہی مگر آسماں سے آئے گی

کسی کی یاد بسیرا کئے ہوئے ہے یہاں

صدا ابھی اِسی خالی مکاں سے آئے گی

میں واقعات کو ترتیب دے رہا ہوں ابھی

نئی کہانی، مِری داستاں سے آئے گی

Saturday, 11 December 2021

روح مجید امجد سے ملاقات

 روحِ مجید امجد سے ملاقات


میں جب بھی نظم لکھتا ہوں تو کلیاتِ مجید امجد

کسی دیوار کی صورت مِرے رستے میں آتی ہے

جہاں سے بچ نکلنے کا

کہیں پر آگے چلنے کا

کوئی رستہ نہیں ملتا

Tuesday, 7 December 2021

اے دوست جو ایک تھی حویلی

 اے دوست جو ایک تھی حویلی

برباد وہ ہو گئی حویلی

دکھ درد ہیں کیا جدا ہمارے

خاموش ہے کیوں مِری حویلی

جب لوگ ارادہ کر چکے تھے

کیسے انہیں روکتی حویلی

Monday, 6 December 2021

کشمیر بنے کیوں پاکستان

 کشمیر بنے کیوں پاکستان


شکر خدا کا

ملک تو حاصل کیا ہے ہم نے

جس کا نام ہے پاکستان

جو ہم سب کی ہے پہچان

لیکن اِس میں بسنے والے

دل سے دیکھوں تو وہی چہرہ نظر آتا ہے

 دل سے دیکھوں تو وہی چہرہ نظر آتا ہے

جیسا ہوتا تھا کبھی، ویسا نظر آتا ہے

اُس نے دو چار ہی آنسو تو بہائے مِرے ساتھ

چلو کوئی تو یہاں زندہ نظر آتا ہے

برف جذبوں کی حرارت سے کہیں پگھلی ہے

اور، کہیں جاتا ہوا رستہ نظر آتا ہے

Sunday, 5 December 2021

اب حویلی میں اسے ڈھونڈنے تو جاؤ گے

 اب حویلی میں اُسے ڈھونڈنے تو جاؤ گے

وہ اگر مل بھی گیا تم کہیں کھو جاؤ گے

خالی کمرے میں وہ تصویر دکھائی دے گی

تم جسے دیکھ کے چپ چاپ ہی سو جاؤ گے

پرورش غم کی اگر ہوتی رہی سینے میں

بوجھ تخلیق کا آسانی سے ڈھو جاؤ گے

Sunday, 28 November 2021

اس کے جاتے ہی یہ سب کیا ہو گیا

 اس کے جاتے ہی یہ سب کیا ہو گیا

آسماں کا رنگ میلا ہو گیا

روشنی ٹکرا گئی دیوار سے

راستہ کچھ اور لمبا ہو گیا

پہلے اس جیسا مجھے ہونا پڑا

اور پھر وہ میرے جیسا ہو گیا

Tuesday, 16 November 2021

ہر طرف سینے میں اس کی ہی کھٹک رہتی ہے

 ہر طرف سینے میں اس کی ہی کھٹک رہتی ہے

جو شفق رنگ کہیں زیرِ فلک رہتی ہے

پوری ہو جاتی اگر کوئی کہانی ہوتی

یہ محبت ہے میاں! اس میں کسک رہتی ہے

اب سمجھ آئی، خوشی کیا ہے دلِ افسردہ

یہ نہ ہو تو کہاں چہروں پہ چمک رہتی ہے