روحِ مجید امجد سے ملاقات
میں جب بھی نظم لکھتا ہوں تو کلیاتِ مجید امجد
کسی دیوار کی صورت مِرے رستے میں آتی ہے
جہاں سے بچ نکلنے کا
کہیں پر آگے چلنے کا
کوئی رستہ نہیں ملتا
بہت پُختہ ہے یہ دیوارِ گریہ
جو مِری ڈھارس بندھاتی ہے
مجھے سایا بھی دیتی ہے
یہ میرا بوجھ اٹھاتی ہے
یہ مجھ سے گفتگو کرتی ہے
مِرے بکھرے خیالوں اور سوالوں کو
منظم کر کے اک نقطے پہ یہ مرکوز کرتی ہے
میں پھر کوئی نیا نقطہ اٹھا لاتا ہوں
استفسار کرتا ہوں
کسی اگلے زمانے کے گلی کوچوں میں جانے کی
طلب سونے نہیں دیتی
مجھے بے چین رکھتی ہے
تو ایسے میں اچانک سامنے روحِ مجید امجد
کسی روشن ستارے کی طرح
دکھائی دیتی ہے مجھ کو
وہ خضرِ راہ کی مانند میری رہنمائی کرنے لگتی ہے
مِری انگلی پکڑ کر
ایک خوابیدہ سی وادی میں
جہاں چاروں طرف بس دُھند ہے
اس دُھند میں لپٹی ہوئی وادی کا ہر رستا دکھاتی ہے
جہاں اگلے زمانے سانس لیتے ہیں
جہاں امکان کے دروازے کُھلتے ہیں
جہاں پر زندگی اپنی حقیقت کو سمجھتی ہے
کہ کیسے صبح ہوتی ہے
کہاں پر شام ڈھلتی ہے
ظہور چوہان
No comments:
Post a Comment