Saturday, 11 December 2021

بچھڑتے وقت بھی ہارا نہیں گیا مجھ سے

 بچھڑتے وقت بھی ہارا نہیں گیا مجھ سے

وہ جا رہا تھا، پکارا نہیں گیا مجھ سے

جو سچ کہوں تو زمانہ تِری جدائی کا

گزر گیا ہے، گزارا نہیں گیا مجھ سے

لچکتی شاخ بلاتی ہی رہ گئی، لیکن

پرایا پھول اتارا نہیں گیا مجھ سے

بدل چکا ہوں میں اتنا سوانگ بھرتے ہوئے

خود اپنا روپ ہی دھارا نہیں گیا مجھ سے

جو ایک بارِ زیاں تھا ظہیر شانے پر

گِرا دیا ہے، اتارا نہیں گیا مجھ سے


ظہیر مشتاق

No comments:

Post a Comment