یہ سوچ کر بھی سمندر اُداس رہتا ہے
وہ خُوش بدن کسی دریا کے پاس رہتا ہے
یوں خاک ہوتے ہیں اک دن یہ خاک کے پُتلے
نہ حُسن باقی، نہ چہرے پہ ماس رہتا ہے
اس آئینے کو بھی دو داد، ٹُوٹتا ہی نہیں
تمہارے حُسن سے بھی روشناس رہتا ہے
یہ سوچ کر بھی سمندر اُداس رہتا ہے
وہ خُوش بدن کسی دریا کے پاس رہتا ہے
یوں خاک ہوتے ہیں اک دن یہ خاک کے پُتلے
نہ حُسن باقی، نہ چہرے پہ ماس رہتا ہے
اس آئینے کو بھی دو داد، ٹُوٹتا ہی نہیں
تمہارے حُسن سے بھی روشناس رہتا ہے
یہ سوچ کر بھی سمندر اداس رہتا ہے
وہ خوش بدن کسی دریا کے پاس رہتا ہے
یوں خاک ہوتے ہیں اک دن یہ خاک کے پتلے
نہ حسن باقی، نہ چہرے پہ ماس رہتا ہے
اس آئینے کو بھی دو داد، ٹوٹتا ہی نہیں
تمہارے حسن سے بھی روشناس رہتا ہے
تیرے اتنے قریب ہو کر بھی
شاہ تھا میں غریب ہو کر بھی
مجھ سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے
دوست ہوں میں رقیب ہو کر بھی
اس سے ملنے میں احتیاط کرو
بے ادب ہے ادیب ہو کر بھی
مجھے تو حیرت ابھی تلک اس حسین پر ہے
کہ جس کے ہونٹوں کا لمس میری جبین پر ہے
کسے خبر تھی کہ آسمانوں میں جا بسے گا
وہ شخص جس کی ابھی ضرورت زمین پر ہے
اسے اجازت ہے مجھ کو کافر کہے بھلے سے
جو آدمی اپنے باپ دادا کے دین پر ہے
کیا کہوں میں تماش بینوں کو
لگ گئی آگ سب سفینوں کو
شوقِ صحرا نوردی لے ڈوبا
ہم بڑے شہر کے مکینوں کو
ہم مکاں تک نہیں بنا پائے
بیچ کر آ گئے زمینوں کو
کچھ بچھڑنے کے قاعدے ہوتے
دور رہ کر بھی رابطے ہوتے
عشق بھی دیکھ کر کیا جاتا
یعنی اس میں بھی فاٸدے ہوتے
میں تِرا ہاتھ تھام کر چلتا
اور گمنام راستے ہوتے
رخ دریا کا موڑ چکا میں
تجھ سے ناطہ توڑ چکا میں
اتنے تیرے خواب نہیں تھے
جتنے پیسے جوڑ چکا میں
سگرٹ نوشی شیشہ ویشہ
تیری خاطر چھوڑ چکا میں
شاخ سے ٹوٹ کے گلدان میں آ جائے گا
پھر کسی روز تُو امکان میں آ جائے گا
شہر میں اور تو کوئی نہیں اس کے جیسا
اپنی خوشبو ہی سے پہچان میں آ جائے گا
وہ بہت خوش ہے محبت کی تجارت کر کے
ایک دن دیکھنا نقصان میں آ جائے گا