Showing posts with label اسد تسکین. Show all posts
Showing posts with label اسد تسکین. Show all posts

Monday, 6 November 2023

یہ سوچ کر بھی سمندر اداس رہتا ہے

 یہ سوچ کر بھی سمندر اُداس رہتا ہے

وہ خُوش بدن کسی دریا کے پاس رہتا ہے

یوں خاک ہوتے ہیں اک دن یہ خاک کے پُتلے

نہ حُسن باقی، نہ چہرے  پہ ماس رہتا ہے

اس آئینے کو بھی دو داد، ٹُوٹتا ہی نہیں

تمہارے حُسن سے بھی روشناس رہتا ہے

Sunday, 17 September 2023

یہ سوچ کر بھی سمندر اداس رہتا ہے

 یہ سوچ کر بھی سمندر اداس رہتا ہے

وہ خوش بدن کسی دریا کے پاس رہتا ہے

یوں خاک ہوتے ہیں اک دن یہ خاک کے پتلے

نہ حسن باقی، نہ چہرے  پہ ماس رہتا ہے

اس آئینے کو بھی دو داد، ٹوٹتا ہی نہیں

تمہارے حسن سے بھی روشناس رہتا ہے

Friday, 2 July 2021

تیرے اتنے قریب ہو کر بھی

 تیرے اتنے قریب ہو کر بھی

شاہ تھا میں غریب ہو کر بھی

مجھ سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے

دوست ہوں میں رقیب ہو کر بھی

اس سے ملنے میں احتیاط کرو

بے ادب ہے ادیب ہو کر بھی

Saturday, 19 June 2021

مجھے تو حیرت ابھی تلک اس حسین پر ہے

 مجھے تو حیرت ابھی تلک اس حسین پر ہے

کہ جس کے ہونٹوں کا لمس میری جبین پر ہے

کسے خبر تھی کہ آسمانوں میں جا بسے گا

وہ شخص جس کی ابھی ضرورت زمین پر ہے

اسے اجازت ہے مجھ کو کافر کہے بھلے سے

جو آدمی اپنے باپ دادا کے دین پر ہے

کیا کہوں میں تماش بینوں کو

 کیا کہوں میں تماش بینوں کو

لگ گئی آگ سب سفینوں کو

شوقِ صحرا نوردی لے ڈوبا

ہم بڑے شہر کے مکینوں کو

ہم مکاں تک نہیں بنا پائے

بیچ کر آ گئے زمینوں کو

Friday, 18 June 2021

کچھ بچھڑنے کے قاعدے ہوتے

 کچھ بچھڑنے کے قاعدے ہوتے

دور رہ کر بھی رابطے ہوتے

عشق بھی دیکھ کر کیا جاتا

یعنی اس میں بھی فاٸدے ہوتے

میں تِرا ہاتھ تھام کر چلتا

اور گمنام راستے ہوتے

Thursday, 17 June 2021

رخ دریا کا موڑ چکا میں

 رخ دریا کا موڑ چکا میں

تجھ سے ناطہ توڑ چکا میں

اتنے تیرے خواب نہیں تھے

جتنے پیسے جوڑ چکا میں

سگرٹ نوشی شیشہ ویشہ

تیری خاطر چھوڑ چکا میں

Wednesday, 16 June 2021

شاخ سے ٹوٹ کے گلدان میں آ جائے گا

 شاخ سے ٹوٹ کے گلدان میں آ جائے گا

پھر کسی روز تُو امکان میں آ جائے گا

شہر میں اور تو کوئی نہیں اس کے جیسا

اپنی خوشبو ہی سے پہچان میں آ جائے گا

وہ بہت خوش ہے محبت کی تجارت کر کے

ایک دن دیکھنا نقصان میں آ جائے گا