تیرے اتنے قریب ہو کر بھی
شاہ تھا میں غریب ہو کر بھی
مجھ سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے
دوست ہوں میں رقیب ہو کر بھی
اس سے ملنے میں احتیاط کرو
بے ادب ہے ادیب ہو کر بھی
تیرے حصے میں آ گیا آخر
میں کسی کا نصیب ہو کر بھی
مجھ کو تسکین اچھی لگتی ہیں
اس کی باتیں عجیب ہو کر بھی
اسد تسکین
No comments:
Post a Comment