Showing posts with label مسعود بیگ تشنہ. Show all posts
Showing posts with label مسعود بیگ تشنہ. Show all posts

Sunday, 28 May 2023

رابطے اتنے رکھیں جتنے سنبھالے جائیں

 رابطے اتنے رکھیں جتنے سنبھالے جائیں

دل کے اطراف رہیں، ڈھنگ سے پالے جائیں

بَیر سے لڑنے کے ہتھیار بھی ڈھالے جائیں

اب محبت کے بھی ہتھیار نکالے جائیں

رشتے بنتے ہیں، ہمیشہ کے لئے بنتے ہیں

گر بکھر جائیں تو مشکل سے سنبھالے جائیں

Monday, 22 May 2023

بھر رگ جاں میں زہر اتنا بھر

 بھر رگِ جاں میں زہر اتنا بھر

قہر مچ جائے، قہر اتنا بھر

نفرتوں کو دماغ میں بھر دے

زہر پھیلا دے، زہر اتنا بھر

شرم و تہذیب ڈوب ہی جائے

بے حیائی سے شہر اتنا بھر

Tuesday, 9 May 2023

جو اپنے پاس ہے ہتھیار دھار تیز رکھو

 جو اپنے پاس ہے ہتھیار، دھار تیز رکھو

بچاؤ تیز رکھو، اور مار تیز رکھو

خبر رساں بھی رکھو اور تیز قاصد بھی

جو صلح کی ہو ضرورت، سوار تیز رکھو

گیا زمانہ کہ ہلکے قرار ہوتے تھے

ہے شخص سامنے بھاری، قرار تیز رکھو

Thursday, 4 May 2023

وہی آرزو کی اٹھان ہے

 وہی آرزو کی اُٹھان ہے

وہی حسرتوں کی دُکان ہے

وہی بُوند تہِ جام رہ گئی

وہی بُوند پیاس ہے، تکان ہے

وہی جو ہے خواہشِ بے اماں

وہی اضطرابِ دل و جان ہے

Thursday, 17 November 2022

جو سال آئے جنوں میں بدلے فسوں میں بدلے

جو سال آئے

جنوں میں بدلے فسوں میں بدلے

گزرتے یہ پل کہ خوں میں بدلے

کچھ ایک کے چاؤ چوں میں بدلے

تھے اہلِ دانش جو قید پائے

ورودھ کے سُر بڑے دبائے

نکل کے شاہیں گھروں سے آئے