رابطے اتنے رکھیں جتنے سنبھالے جائیں
دل کے اطراف رہیں، ڈھنگ سے پالے جائیں
بَیر سے لڑنے کے ہتھیار بھی ڈھالے جائیں
اب محبت کے بھی ہتھیار نکالے جائیں
رشتے بنتے ہیں، ہمیشہ کے لئے بنتے ہیں
گر بکھر جائیں تو مشکل سے سنبھالے جائیں
رابطے اتنے رکھیں جتنے سنبھالے جائیں
دل کے اطراف رہیں، ڈھنگ سے پالے جائیں
بَیر سے لڑنے کے ہتھیار بھی ڈھالے جائیں
اب محبت کے بھی ہتھیار نکالے جائیں
رشتے بنتے ہیں، ہمیشہ کے لئے بنتے ہیں
گر بکھر جائیں تو مشکل سے سنبھالے جائیں
بھر رگِ جاں میں زہر اتنا بھر
قہر مچ جائے، قہر اتنا بھر
نفرتوں کو دماغ میں بھر دے
زہر پھیلا دے، زہر اتنا بھر
شرم و تہذیب ڈوب ہی جائے
بے حیائی سے شہر اتنا بھر
جو اپنے پاس ہے ہتھیار، دھار تیز رکھو
بچاؤ تیز رکھو، اور مار تیز رکھو
خبر رساں بھی رکھو اور تیز قاصد بھی
جو صلح کی ہو ضرورت، سوار تیز رکھو
گیا زمانہ کہ ہلکے قرار ہوتے تھے
ہے شخص سامنے بھاری، قرار تیز رکھو
وہی آرزو کی اُٹھان ہے
وہی حسرتوں کی دُکان ہے
وہی بُوند تہِ جام رہ گئی
وہی بُوند پیاس ہے، تکان ہے
وہی جو ہے خواہشِ بے اماں
وہی اضطرابِ دل و جان ہے
جو سال آئے
جنوں میں بدلے فسوں میں بدلے
گزرتے یہ پل کہ خوں میں بدلے
کچھ ایک کے چاؤ چوں میں بدلے
تھے اہلِ دانش جو قید پائے
ورودھ کے سُر بڑے دبائے
نکل کے شاہیں گھروں سے آئے