قصہ ان دنوں کا ہے جب ہمیں محبت تھی
خواب اک معمہ تھا نیند اک اذیت تھی
کیا عجیب رشتہ تھا آگ اور پانی کا
میں برستا بادل تھا اور وہ قیامت تھی
ہم کہ ایک دوجے پر اس طرح سے لازم تھے
مجھ کو اس کا نشہ تھا اس کو میری عادت تھی
ہم بھٹکتے پھرتے تھے تشنگی کے صحرا میں
ان لبوں پہ امرت تھا اور مجھے اجازت تھی
رات میں مسافر تھا گل بدن کے رستوں کا
انگ انگ خوشبو تھی کیا حسیں مسافت تھی
ہم گناہگارِ شب روکنے سے رُکتے کب؟
عمر کا تقاضا تھا وقت کی ضرورت تھی
ہم سمیر کھو بیٹھے مصلحت کی راہوں میں
وہ جو اک تعلق تھا وہ جو ایک نسبت تھی
نعیم سمیر
No comments:
Post a Comment