Friday, 4 September 2026

قصہ ان دنوں کا ہے جب ہمیں محبت تھی

 قصہ ان دنوں کا ہے جب ہمیں محبت تھی

خواب اک معمہ تھا نیند اک اذیت تھی

کیا عجیب رشتہ تھا آگ اور پانی کا 

میں برستا بادل تھا اور وہ قیامت تھی

ہم کہ ایک دوجے پر اس طرح سے لازم تھے

مجھ کو اس کا نشہ تھا اس کو میری عادت تھی

ہم بھٹکتے پھرتے تھے تشنگی کے صحرا میں

ان لبوں پہ امرت تھا اور مجھے اجازت تھی 

رات میں مسافر تھا گل بدن کے رستوں کا

انگ انگ خوشبو تھی کیا حسیں مسافت تھی 

ہم گناہگارِ شب روکنے سے رُکتے کب؟

عمر کا تقاضا تھا وقت کی ضرورت تھی 

ہم سمیر کھو بیٹھے مصلحت کی راہوں میں 

وہ جو اک تعلق تھا وہ جو ایک نسبت تھی


نعیم سمیر

No comments:

Post a Comment