میں ہوں اک مزدور کی بیٹی
میرا نسب غریبی ہے
کتنی گرم دوپہروں میں بھی
اپنے باپ اور بھائی کے سنگ
اپنی بہن اور ماں کے ساتھ
سارا دن اس سڑک کنارے
پتھر کوٹتی رہتی ہوں
میں ہوں اک مزدور کی بیٹی
میرا نسب غریبی ہے
کتنی گرم دوپہروں میں بھی
اپنے باپ اور بھائی کے سنگ
اپنی بہن اور ماں کے ساتھ
سارا دن اس سڑک کنارے
پتھر کوٹتی رہتی ہوں
دوست کے لیے ایک دعا
تِری کامرانیوں پہ مِرا دل بھی مسکرائے
اے مِرے حسین ساتھی! تجھے کوئی غم نہ آئے
کبھی راستہ نہ بھولیں تِرے گھر کا یہ بہاریں
تیری منزلوں کا جگنو سدا یونہی جگمگائے
کبھی آنسوؤں کی شبنم تِری آنکھ پر نہ اُترے
نہ کوئی کرن سحر کی تمہیں بے قرار پائے
شازیہ اکبر
کیوں مِرے خواب پریشاں نہیں ہونے دیتے
کیوں مجھے ذات پہ حیراں نہیں ہونے دیتے
کیوں مِرے پھیلے ہوئے ہاتھ ہیں خالی اب تک
کیوں مِرے بخت کا ساماں نہیں ہونے دیتے
ہم تِری کھوج میں اک اور خدا کو پرکھیں
ہم کو اتنا بھی تو ناداں نہیں ہونے دیتے
بے نام مسافت
ہم کہاں سے آئے ہیں
اور کدھر کو جانا ہے
راستہ نہیں معلوم
کچھ خبر نہ منزل کی
مضطرب ہے دل اپنا
روح بے سہارا ہے
حاشیہ
کسی رات کی تیرگی سے نکالا ہوا راستہ ہوں
سیاہ حاشیہ ہوں
سیاہی کہ جو بیکراں کائناتوں کا ملبوس پہنے ستارے جنے گی
سیاہی کہ جس کے سیاہ ریشمی پلووں پر
کرن اور گوٹی کا بخیہ لگا کر سیا ہے
اچھا کہتے ہیں کہاں تجھ کو زمانے والے
ہم نہیں، عشق! تِرے حال میں آنے والے
کتنے لوگوں نے مجھے بھیجی ہے تصویر مِری
دیکھ آئینے مِرا عکس مٹانے والے
مل تو جائیں گے مگر کم ہی ملیں گے ایسے
عمر کے ساتھ یہاں پیار بڑھانے والے
اس قدر بے نیام خاموشی
زہر ہے صبح و شام خاموشی
سخت گستاخ، من چلی، ضدی
بے دھڑک، بے لگام خاموشی
تیرے داؤ سے بچ گیا جو اسے
بھیج دینا سلام خاموشی
میں تم ہو جاتی ہوں
تم سے مل کر میں نے رکھ دیں
اپنی آنکھیں پوروں میں
اور سماعت مختص کر دی
نین و نقش بنانے کو
سچ پوچھو تو میں نے جیسے
پیرہن سے جو چھلکتا ہے سراپا میرا
پوچھوں آئینے سے یہ روپ ہے کیسا میرا
کاش باطن سے مرا رنگ ابھرتا نہ کوئی
میری تصویر نے رکھا نہیں پردا میرا
منتظر ایک فراموش ہوئے لمحے کی ہوں
زندگی بھر پہ محیط ایک وہ لمحہ میرا