Showing posts with label شازیہ اکبر. Show all posts
Showing posts with label شازیہ اکبر. Show all posts

Monday, 17 April 2023

میں ہوں اک مزدور کی بیٹی میرا نسب غریبی ہے

 میں ہوں اک مزدور کی بیٹی


میرا نسب غریبی ہے

کتنی گرم دوپہروں میں بھی

اپنے باپ اور بھائی کے سنگ

اپنی بہن اور ماں کے ساتھ

سارا دن اس سڑک کنارے

پتھر کوٹتی رہتی ہوں

Thursday, 13 April 2023

تری کامرانیوں پہ مرا دل بھی مسکرائے

 دوست کے لیے ایک دعا


تِری کامرانیوں پہ مِرا دل بھی مسکرائے

اے مِرے حسین ساتھی! تجھے کوئی غم نہ آئے

کبھی راستہ نہ بھولیں تِرے گھر کا یہ بہاریں

تیری منزلوں کا جگنو سدا یونہی جگمگائے

کبھی آنسوؤں کی شبنم تِری آنکھ پر نہ اُترے

نہ کوئی کرن سحر کی تمہیں بے قرار پائے


شازیہ اکبر

Wednesday, 6 October 2021

کیوں مرے خواب پریشاں نہیں ہونے دیتے

 کیوں مِرے خواب پریشاں نہیں ہونے دیتے

کیوں مجھے ذات پہ حیراں نہیں ہونے دیتے

کیوں مِرے پھیلے ہوئے ہاتھ ہیں خالی اب تک

کیوں مِرے بخت کا ساماں نہیں ہونے دیتے

ہم تِری کھوج میں اک اور خدا کو پرکھیں

ہم کو اتنا بھی تو ناداں نہیں ہونے دیتے

Monday, 20 September 2021

ہم کہاں سے آئے ہیں اور کدھر کو جانا ہے

 بے نام مسافت


ہم کہاں سے آئے ہیں 

اور کدھر کو جانا ہے

راستہ نہیں معلوم

کچھ خبر نہ منزل کی

مضطرب ہے دل اپنا

روح بے سہارا ہے

Saturday, 17 July 2021

کسی رات کی تیرگی سے نکالا ہوا راستہ ہوں سیاہ حاشیہ ہوں

 حاشیہ


کسی رات کی تیرگی سے نکالا ہوا راستہ ہوں

سیاہ حاشیہ ہوں

سیاہی کہ جو بیکراں کائناتوں کا ملبوس پہنے ستارے جنے گی

سیاہی کہ جس کے سیاہ ریشمی پلووں پر 

کرن اور گوٹی کا بخیہ لگا کر سیا ہے

Saturday, 19 June 2021

اچھا کہتے ہیں کہاں تجھ کو زمانے والے

 اچھا کہتے ہیں کہاں تجھ کو زمانے والے

ہم نہیں، عشق! تِرے حال میں آنے والے

کتنے لوگوں نے مجھے بھیجی ہے تصویر مِری 

دیکھ آئینے مِرا عکس مٹانے والے

مل تو جائیں گے مگر کم ہی ملیں گے ایسے

عمر کے ساتھ یہاں پیار بڑھانے والے

Wednesday, 16 June 2021

اس قدر بے نیام خاموشی زہر ہے صبح و شام خاموشی

 اس قدر بے نیام خاموشی

زہر ہے صبح و شام خاموشی 

سخت گستاخ، من چلی، ضدی

بے دھڑک، بے لگام خاموشی

 تیرے داؤ سے بچ گیا جو اسے

بھیج دینا سلام خاموشی

Sunday, 6 June 2021

تم سے مل کر میں نے رکھ دیں اپنی آنکھیں پوروں میں

 میں تم ہو جاتی ہوں


تم سے مل کر میں نے رکھ دیں

اپنی آنکھیں پوروں میں

اور سماعت مختص کر دی

نین و نقش بنانے کو

سچ پوچھو تو میں نے جیسے

Saturday, 28 November 2020

پیرہن سے جو چھلکتا ہے سراپا میرا

 پیرہن سے جو چھلکتا ہے سراپا میرا

پوچھوں آئینے سے یہ روپ ہے کیسا میرا

کاش باطن سے مرا رنگ ابھرتا نہ کوئی

میری تصویر نے رکھا نہیں پردا میرا

منتظر ایک فراموش ہوئے لمحے کی ہوں

زندگی بھر پہ محیط ایک وہ لمحہ میرا

Tuesday, 27 February 2018

جان دے کر تجھے جینے کی دعا دیتے ہیں

جان دے کر تجھے جینے کی دعا دیتے ہیں
کتنا انمول وفاؤں کا صلہ دیتے ہیں 
بامروت ہیں مِرے شہر کے رہنے والے
لے کے بینائی مِری، دیپ جلا دیتے ہیں 
حاکمِ وقت سے رکھتے ہیں عداوت، لیکن
اس کی ہر ہاں میں سبھی ہاں بھی ملا دیتے ہیں 

دل و نگاہ کے حسن و قرار کا موسم

دل و نگاہ کے حسن و قرار کا موسم
وہ تیری یاد تِرے انتظار کا موسم
جھکی ہے آنکھ کئی رت جگے سمیٹے ہوئے
چھپا ہے لمس میں کیسا خمار کا موسم
ہمارے پیار نے عمرِ دوام مانگی ہے
ہمیں قبول نہیں تھا اُدھار کا موسم

تمہاری الفت کے اس جنوں نے عجیب جادو جگا دیا ہے

تمہاری الفت کے اس جنوں نے عجیب جادو جگا دیا ہے
میں بھولنا چاہتی تھی تم کو، زمانہ تم نے بھلا دیا ہے 
مِرے لہو میں یہ ننھے منے چراغ کتنے ہی جل اٹھے ہیں 
یہ کیسے تم نے چھُوا ہے جاناں! کہ میرا پہلو جلا دیا ہے 
میں اپنے لفظوں کو نکہتوں کے پروں سے اڑتا بھی دیکھتی ہوں 
تمہاری چاہت نے میرے فن سے کثافتوں کو مِٹا دیا ہے 

Thursday, 15 February 2018

ترے خیال کو بھی فرصت خیال نہیں

تِرے خیال کو بھی فرصتِ خیال نہیں 
جدائی ہجر نہیں ہے، ملن وصال نہیں 
مِرے وجود میں ایسا سما گیا کوئی
غمِ زمانہ نہیں، فِکر ماہ و سال نہیں 
اسے یقین کے سورج سے ہی ابھرنا ہے 
وہ سیلِ وہم میں بہتا ہوا جمال نہیں 

دید سے ذوق ملاقات سے آگے نکلے

دید سے، ذوقِ ملاقات سے آگے نکلے 
عشق ممکن ہے تِری ذات سے آگے نکلے
لاگ جب اس کی بدل جائے لگاؤ میں کبھی
خاک تو ارض و سماوات سے آگے نکلے
روک لیتی ہے طلسمات کی جادو نگری
کب کوئی شہرِ جمادات سے آگے نکلے

فسانے کے کسی کردار سے الجھا نہیں کرتے

فسانے کے کسی کردار سے اُلجھا نہیں کرتے
کسی نادان کی تکرار سے الجھا نہیں کرتے
بقدرِ ظرف ملتی ہے محبت جس سے ملتی ہے
یہاں سائل کبھی سرکار سے الجھا نہیں کرتے
یہ درویشانِ الفت کی روایت ہے زمانے میں
کسی کی جیت، اپنی ہار سے الجھا نہیں کرتے

Saturday, 10 February 2018

موت کا سکہ آؤ چرا کے لہو سی سرخی

موت کا سکہ

آؤ چُرا کے لہو سی سرخی
وقت سے فرصت
اور سورج سے تھوڑی حدت
پھر دھڑکن کی چابک لے کر
ڈوبتی نبضوں کو دوڑائیں
اور صحرائے زیست کو پاٹیں

تم جو سارے شہر کو خالی کر جاتے ہو

کیوں جاتے ہو

تم جو سارے شہر کو خالی کر جاتے ہو
کیوں جاتے ہو
تم کیا جانو پیار کی نظمیں
ہجر کے گیت میں ڈھل جاتی ہیں
شامیں پھیکی پڑ جاتی ہیں
اور راتوں کو کلی کلی کی

اداسی گرد جمی ہے آئینے پر

اداسی

گرد جمی ہے آئینے پر
میز پہ رکھی ڈائری چپ ہے
سوکھ چکی ہے قلم سیاہی
اور کتابیں بھی گم صم ہیں
شکن شکن ہے بستر سارا
گجرے کب کے ٹوٹ چکے ہیں

سدا ممتاز لگتا ہے دسمبر کس لیے آخر

دسمبر

وہ درجن بھر مہینوں سے
سدا ممتاز لگتا ہے
دسمبر کس لیے آخر 
ہمیشہ خاص لگتا ہے
بہت سہمی ہوئی صبحیں
اداسی سے بھری شامیں