Tuesday, 14 July 2026

زندگی بھر مجھ سے وہ برہم رہا

 زندگی بھر مجھ سے وہ برہم رہا

روبرو لیکن مِرا سر خم رہا

میرا دامن آنسوؤں سے نم رہا

دل کے جانے کا نہایت غم رہا

آسماں سے یوں اتر کر آ گئی

گلستاں شرمندۂ شبنم رہا

مدعائے دل جو میں نے کہہ دیا

مدتوں وہ مجھ سے پھر برہم رہا

عمر ساری قید میں اپنی کٹی

جرم پھر بھی حضرتِ آدم رہا

کاکلِ پیچاں سنواری تو مگر

پیچ و خم جو تھا وہ پیچ و خم رہا

زندگی میں کوئی بھی اپنا نہ تھا

بعد مردن مدتوں ماتم رہا

اسلم شوریدہ سر سے پوچھیے

کیا جنونِ شوق کا عالم رہا


اسلم بارہ بنکوی

محمد اسلم صدیقی

No comments:

Post a Comment