Tuesday, 7 July 2026

چہروں کی بھیڑ میں انسان کہاں ہیں

 چہروں کی بھِیڑ میں اِنسان کہاں ہیں

اے زمِیں! تیرے نِگہبان کہاں ہیں؟

لو دِیے کی بھی ہے یہ پُوچھتی اب تو

بُجھا دیں مجھ کو جو طُوفان کہاں ہیں

ہے مِرے شہر میں ہر شے ہی میسّر

پُورے ہوتے مگر ارمان کہاں ہیں

کہنے کو تو ہے یہ چمن بھی سلامت

گُل کِدھر کو ہیں، گُلِستان کہاں ہیں

جھُوٹے تھے لِکھے گئے جتنے قصیدے

ان قصیدوں کے بھی عُنوان کہاں ہیں

بخش ہی دیتا خُدا ان کو بھی ناظر

سچ میں یہ لوگ پشیمان کہاں ہیں


اظہر ناظر

No comments:

Post a Comment