فلسطین
عجیب جنگ ہے یہ
اور عجیب تر ہے کہ جو
اس ایک جنگ میں
ظالم کی صف میں شامل ہیں
یہ جنگ بچوں کے
ماؤں کے
فلسطین
عجیب جنگ ہے یہ
اور عجیب تر ہے کہ جو
اس ایک جنگ میں
ظالم کی صف میں شامل ہیں
یہ جنگ بچوں کے
ماؤں کے
گواہی دو
کہ تم اس دور سے گزرے ہو جب
دورِ خزاں تھا
گواہی دو
کہ بہتے وقت کے دھارے بہت سنگین تھے تب
بہاؤ تیز تھا، اور تیرنا مشکل تھا بے حد
گواہی دو
سازش
جب سازش حادثہ کہلائے
اور سازش کرنے والوں کو گدی پر بٹھایا جانے لگے
جمہور کا ہر ایک نقش قدم
ٹھوکر سے مٹایا جانے لگے
جب خون سے لت پت ہاتھوں میں
اس دیش کا پرچم آ جائے
زرد پتوں کا بن
زرد پتوں کا بن جو مِرا دیس ہے
درد کی انجمن جو مِرا دیس ہے
جب پڑھے تھے یہ مصرعے تو کیوں تھا گماں
زرد پتوں کا بن فیض کا دیس ہے
درد کی انجمن فیض کا دیس ہے
بس وہی دیس ہے
دھرم میں لپٹی وطن پرستی کیا کیا سوانگ رچائے گی
مسلی کلیاں، جھلسے گلشن، زرد خزاں دکھلائے گی
یورپ جس وحشت سے اب بھی سہما سہما رہتا ہے
خطرہ ہے وہ وحشت میرے ملک میں آگ لگائے گی
جرمن گیس کدوں سے اب تک خون کی بدبو آتی ہے
اندھی وطن پرستی ہم کو اس رستے لے جائے گی
صبح
سنا ہے رات کے پردے میں صبح سوتی ہے
سویرا اٹھ کے دبے پاؤں آئے گا ہم تک
ہمارے پاؤں پہ رکھے گا بھیگے بھیگے پھول
کہے گا؛ اٹھو کہ اب تیرگی کا دور گیا
بہت سے کام ادھورے پڑے ہیں کرنے ہیں
انہیں سمیٹ کے راہیں نئی تلاش کرو
میری تلوار ہے یہ تیرا قلم
ایک نظم ایک غزل
الجھا الجھا سا کوئی
شعر کہیں
ایک افسانہ کہانی
یا کوئی ایک کتاب
کوئی تصویر
خاموشی
لو میں نے قلم کو دھو ڈالا
لو میری زباں پر تالا ہے
لو میں نے آنکھیں بند کر لیں
لو پرچم سارے باندھ لیے
نعروں کو گلے میں گھونٹ دیا
احساس کے تانے بانے کو
گر ٹوٹ گئے تو ہار گئے
جب میرے وطن کی گلیوں میں
ظلمت نے پنکھ پسارے تھے
اور رات کے کالے بادل نے
ہر شہر میں ڈیرا ڈالا تھا
جب بستی بستی دہک اٹھی
یوں لگتا تھا سب راکھ ہوا
شدت پسند
مجھے یقیں تھا کہ مذہبوں سے
کوئی بھی رشتہ نہیں ہے ان کا
مجھے یقیں تھا کہ ان کا مذہب
ہے نفرتوں کی حدوں کے اندر
مجھے یقیں تھا وہ لا مذہب ہیں
یا ان کے مذہب کا نام ہرگز