Showing posts with label گوہر رضا. Show all posts
Showing posts with label گوہر رضا. Show all posts

Wednesday, 25 September 2024

عجیب جنگ ہے یہ کون جانے کب سے جاری ہے

 فلسطین


عجیب جنگ ہے یہ

اور عجیب تر ہے کہ جو

اس ایک جنگ میں

ظالم کی صف میں شامل ہیں

یہ جنگ بچوں کے

ماؤں کے

Tuesday, 9 April 2024

گواہی دو کہ تم اس دور سے گزرے ہو

 گواہی دو

کہ تم اس دور سے گزرے ہو جب

دورِ خزاں تھا

گواہی دو

کہ بہتے وقت کے دھارے بہت سنگین تھے تب

بہاؤ تیز تھا، اور تیرنا مشکل تھا بے حد

گواہی دو

Sunday, 24 March 2024

جب سازش حادثہ کہلائے اٹھو کہ حفاظت لازم ہے

 سازش


جب سازش حادثہ کہلائے

اور سازش کرنے والوں کو گدی پر بٹھایا جانے لگے

جمہور کا ہر ایک نقش قدم

ٹھوکر سے مٹایا جانے لگے

جب خون سے لت پت ہاتھوں میں

اس دیش کا پرچم آ جائے

Sunday, 7 January 2024

زرد پتوں کا بن جو مرا دیس ہے

 زرد پتوں کا بن


زرد پتوں کا بن جو مِرا دیس ہے

درد کی انجمن جو مِرا دیس ہے

جب پڑھے تھے یہ مصرعے تو کیوں تھا گماں

زرد پتوں کا بن فیض کا دیس ہے

درد کی انجمن فیض کا دیس ہے

بس وہی دیس ہے

Sunday, 23 October 2022

دھرم میں لپٹی وطن پرستی کیا کیا سوانگ رچائے گی

 دھرم میں لپٹی وطن پرستی کیا کیا سوانگ رچائے گی

مسلی کلیاں، جھلسے گلشن، زرد خزاں دکھلائے گی

یورپ جس وحشت سے اب بھی سہما سہما رہتا ہے

خطرہ ہے وہ وحشت میرے ملک میں آگ لگائے گی

جرمن گیس کدوں سے اب تک خون کی بدبو آتی ہے

اندھی وطن پرستی ہم کو اس رستے لے جائے گی

Friday, 11 March 2022

سنا ہے رات کے پردے میں صبح سوتی ہے

 صبح


سنا ہے رات کے پردے میں صبح سوتی ہے

سویرا اٹھ کے دبے پاؤں آئے گا ہم تک

ہمارے پاؤں پہ رکھے گا بھیگے بھیگے پھول

کہے گا؛ اٹھو کہ اب تیرگی کا دور گیا

بہت سے کام ادھورے پڑے ہیں کرنے ہیں

انہیں سمیٹ کے راہیں نئی تلاش کرو

Tuesday, 14 December 2021

میری تلوار ہے یہ تیرا قلم

 میری تلوار ہے یہ تیرا قلم


ایک نظم ایک غزل

الجھا الجھا سا کوئی

شعر کہیں

ایک افسانہ کہانی

یا کوئی ایک کتاب

کوئی تصویر

Thursday, 9 December 2021

لو میں نے قلم کو دھو ڈالا

 خاموشی


لو میں نے قلم کو دھو ڈالا

لو میری زباں پر تالا ہے

لو میں نے آنکھیں بند کر لیں

لو پرچم سارے باندھ لیے

نعروں کو گلے میں گھونٹ دیا

احساس کے تانے بانے کو

Wednesday, 8 December 2021

گر ٹوٹ گئے تو ہار گئے

 گر ٹوٹ گئے تو ہار گئے


جب میرے وطن کی گلیوں میں

ظلمت نے پنکھ پسارے تھے

اور رات کے کالے بادل نے

ہر شہر میں ڈیرا ڈالا تھا

جب بستی بستی دہک اٹھی

یوں لگتا تھا سب راکھ ہوا

Saturday, 19 June 2021

شدت پسند؛ مجھے یقیں تھا کہ مذہبوں سے کوئی بھی رشتہ

 شدت پسند


مجھے یقیں تھا کہ مذہبوں سے

کوئی بھی رشتہ نہیں ہے ان کا

مجھے یقیں تھا کہ ان کا مذہب

ہے نفرتوں کی حدوں کے اندر

مجھے یقیں تھا وہ لا مذہب ہیں

یا ان کے مذہب کا نام ہرگز