ہاتھ آتی نہیں بے کراں زندگی
رابطوں کا عجب امتحاں زندگی
سانس کی ڈور سے ہے جُڑی زندگی
روکتے روکتے بھی رواں زندگی
آبلے پاؤں میں پُر خطر زندگی
موت کی دُھوپ میں سائباں زندگی
ہاتھ آتی نہیں بے کراں زندگی
رابطوں کا عجب امتحاں زندگی
سانس کی ڈور سے ہے جُڑی زندگی
روکتے روکتے بھی رواں زندگی
آبلے پاؤں میں پُر خطر زندگی
موت کی دُھوپ میں سائباں زندگی
یار تیرے جذبوں میں شدتیں ضروری ہیں
من پسند بانہوں کی حِدتیں کی ضروری ہیں
دید کی خواہش بھی بِن تِرے ادھوری تھی
دوریاں مٹانے کو قربتیں ضروری ہیں
خواہش مکمل ہو آرزو نہ پوری ہو
اک کسک جگانے کو حسرتیں ضروری ہیں
یہ تم پہ منحصر تھا کہ یا تو ڈر کر بدل لیتے
کہانی کے کسی انجام کو مر کر بدل لیتے
محبت اک شجر ہے جو دلوں کا آشیانہ ہے
شجر جب سُوکھ جاتے تو پرندے در بدل لیتے
جہاں ہم تھے وہیں ٹھہرے، رسائی تم کو دی ورنہ
تِرے آنے سے پہلے ہم یہ اپنا گھر بدل لیتے
حسین چہرے فقط اداسی کے باب ہوتے
وفا نہ ہوتی نہ چاہتوں کے سراب ہوتے
یہی ہمارا گِلہ ہے تم سے اگر تو ہم پہ
نگاہ رکھتا تو ہم نہ ایسے خراب ہوتے
اگر وفا کی روایتوں کو بھلا نہ دیتے
ہمارے چہرے اذیتوں کی کتاب ہوتے
عجیب پانے سے مسئلے ہیں قریب آنے سے مسئلے ہیں
تجھے فقط ہم سے مسئلہ ہے ہمیں زمانے سے مسئلے ہیں
حلال کھا کر جو پیٹ بھرتا رہا ہے اپنا مشقتوں سے
امیر میرے تُجھے بھلا کیوں غریب خانے سے مسئلے ہیں
نیا زمانہ ہے نوجوانوں کے لب پہ اپنے نئے ترانے
قدیم لوگوں کو اب جوانوں کے اس ترانے سے مسئلے ہیں
تصویر میں جو قید تھے شاہکار کیوں روتے رہے
ہم زندگی سے اس قدر بے زار کیوں روتے رہے
ہم ہی نہتے تھے چلو، لشکر تو تیرے ساتھ تھا
جب قافلے لُٹتے رہے سردار کیوں روتے رہے
اس شہر کے روتے بلکتے لوگ مرتے جا رہے
فاروق آتا کیوں نہیں، دربار کیوں روتے رہے
نہ مُستقل و جاوِداں جمال ہے، کمال ہے
کہ خوبصورتی کو بھی زوال ہے، کمال ہے
بحث مباحثے سے کچھ پرے جوابِ وصل پر
چلو مِرا حبیب ہم خیال ہے، کمال ہے
عجیب بے قرار زندگی کے شب و روز ہیں
تھکا سا دن ہے رات بھی نِڈھال ہے، کمال ہے
یار تیرے جذبوں میں شِدتیں ضروری ہیں
من پسند بانہوں کی حِدتیں کی ضروری ہیں
دِید کی خواہش بھی بِن تِرے ادھوری تھی
دُوریاں مٹانے کو قربتیں ضروری ہیں
خواہش مکمل ہو، آرزو نہ پوری ہو
اک کسک جگانے کو حسرتیں ضروری ہیں
یہ کدورت تو اک بہانہ تھا
مجھ کو دیوار سے لگانا تھا
تیری رحمت میں میں رہی جب تک
دل کی مسجد مِرا ٹھکانہ تھا
سارے الزام میرے ذمے تھے
آپ کو کس نے آزمانا تھا
دل شکستہ لوگوں کی آرزو نہیں ہوتی
بِن گُلوں کے دنیا میں رنگ و بو نہیں ہوتی
زرد چہرہ فاقے کی مختصر کہانی ہے
کیوں غریب کی بیٹی خوبرو نہیں ہوتی
روز دل مہکتے ہیں، ہم زباں چہکتے ہیں
خاص گُفتگو کیسے کو بکو نہیں ہوتی
لبوں کو کھولنے تو دو زبانیں بھول جائیں گے
یہ پنچھی قید میں اپنی اڑانیں بھول جائیں گے
نئی تہذیب کی جنگیں ذہانت کی لڑائی ہیں
سپاہی سب کی جنگوں میں کمانیں بھول جائیں گے
بدلتے رنگ چہرے کے مری مرہونِ منت ہیں
عطر دیں گے تو پھولوں کی دُکانیں بھول جائیں گے