Showing posts with label مشال مراد. Show all posts
Showing posts with label مشال مراد. Show all posts

Friday, 29 September 2023

ہاتھ آتی نہیں بے کراں زندگی

 ہاتھ آتی نہیں بے کراں زندگی

رابطوں کا عجب امتحاں زندگی

سانس کی ڈور سے ہے جُڑی زندگی

روکتے روکتے بھی رواں زندگی

آبلے پاؤں میں پُر خطر زندگی

موت کی دُھوپ میں سائباں زندگی

Monday, 27 March 2023

یار تیرے جذبوں میں شدتیں ضروری ہیں

 یار تیرے جذبوں میں شدتیں ضروری ہیں

من پسند بانہوں کی حِدتیں کی ضروری ہیں

دید کی خواہش بھی بِن تِرے ادھوری تھی

دوریاں مٹانے کو قربتیں ضروری ہیں

خواہش مکمل ہو آرزو نہ پوری ہو

اک کسک جگانے کو حسرتیں ضروری ہیں

Monday, 21 November 2022

یہ تم پہ منحصر تھا کہ یا تو ڈر کر بدل لیتے

 یہ تم پہ منحصر تھا کہ یا تو ڈر کر بدل لیتے

کہانی کے کسی انجام کو مر کر بدل لیتے

محبت اک شجر ہے جو دلوں کا آشیانہ ہے

شجر جب سُوکھ جاتے تو پرندے در بدل لیتے

جہاں ہم تھے وہیں ٹھہرے، رسائی تم کو دی ورنہ

تِرے آنے سے پہلے ہم یہ اپنا گھر بدل لیتے

Thursday, 10 November 2022

حسین چہرے فقط اداسی کے باب ہوتے

 حسین چہرے فقط اداسی کے باب ہوتے

وفا نہ ہوتی نہ چاہتوں کے سراب ہوتے

یہی ہمارا گِلہ ہے تم سے اگر تو ہم پہ

نگاہ رکھتا تو ہم نہ ایسے خراب ہوتے

اگر وفا کی روایتوں کو بھلا نہ دیتے

ہمارے چہرے اذیتوں کی کتاب ہوتے

Tuesday, 27 April 2021

عجیب پانے سے مسئلے ہیں قریب آنے سے مسئلے ہیں

 عجیب پانے سے مسئلے ہیں قریب آنے سے مسئلے ہیں

تجھے فقط ہم سے مسئلہ ہے ہمیں زمانے سے مسئلے ہیں

حلال کھا کر جو پیٹ بھرتا رہا ہے اپنا مشقتوں سے

امیر میرے تُجھے بھلا کیوں غریب خانے سے مسئلے ہیں

نیا زمانہ ہے نوجوانوں کے لب پہ اپنے نئے ترانے

قدیم لوگوں کو اب جوانوں کے اس ترانے سے مسئلے ہیں

Saturday, 10 April 2021

تصویر میں جو قید تھے شاہکار کیوں روتے رہے

 تصویر میں جو قید تھے شاہکار کیوں روتے رہے

ہم زندگی سے اس قدر بے زار کیوں روتے رہے

ہم ہی نہتے تھے چلو، لشکر تو تیرے ساتھ تھا

جب قافلے لُٹتے رہے سردار کیوں روتے رہے

اس شہر کے روتے بلکتے لوگ مرتے جا رہے

فاروق آتا کیوں نہیں، دربار کیوں روتے رہے

Wednesday, 31 March 2021

نہ مستقل و جاوداں جمال ہے کمال ہے

 نہ مُستقل و جاوِداں جمال ہے، کمال ہے

کہ خوبصورتی کو بھی زوال ہے، کمال ہے

بحث مباحثے سے کچھ پرے جوابِ وصل پر

چلو مِرا حبیب ہم خیال ہے، کمال ہے

عجیب بے قرار زندگی کے شب و روز ہیں

تھکا سا دن ہے رات بھی نِڈھال ہے، کمال ہے

Friday, 26 March 2021

یار تیرے جذبوں میں شدتیں ضروری ہیں

 یار تیرے جذبوں میں شِدتیں ضروری ہیں

من پسند بانہوں کی حِدتیں کی ضروری ہیں

دِید کی خواہش بھی بِن تِرے ادھوری تھی

دُوریاں مٹانے کو قربتیں ضروری ہیں

خواہش مکمل ہو، آرزو نہ پوری ہو

اک کسک جگانے کو حسرتیں ضروری ہیں

Thursday, 25 March 2021

یہ کدورت تو اک بہانہ تھا

 یہ کدورت تو اک بہانہ تھا

مجھ کو دیوار سے لگانا تھا

تیری رحمت میں میں رہی جب تک

دل کی مسجد مِرا ٹھکانہ تھا

سارے الزام میرے ذمے تھے

آپ کو کس نے آزمانا تھا

دل شکستہ لوگوں کی آرزو نہیں ہوتی

 دل شکستہ لوگوں کی آرزو نہیں ہوتی

بِن گُلوں کے دنیا میں رنگ و بو نہیں ہوتی

زرد چہرہ فاقے کی مختصر کہانی ہے

کیوں غریب کی بیٹی خوبرو نہیں ہوتی

روز دل مہکتے ہیں، ہم زباں چہکتے ہیں

خاص گُفتگو کیسے کو بکو نہیں ہوتی

لبوں کو کھولنے تو دو زبانیں بھول جائیں گے

 لبوں کو کھولنے تو دو زبانیں بھول جائیں گے

یہ پنچھی قید میں اپنی اڑانیں بھول جائیں گے

نئی تہذیب کی جنگیں ذہانت کی لڑائی ہیں

سپاہی سب کی جنگوں میں کمانیں بھول جائیں گے

بدلتے رنگ چہرے کے مری مرہونِ منت ہیں

عطر دیں گے تو پھولوں کی دُکانیں بھول جائیں گے