Thursday, 25 March 2021

یہ کدورت تو اک بہانہ تھا

 یہ کدورت تو اک بہانہ تھا

مجھ کو دیوار سے لگانا تھا

تیری رحمت میں میں رہی جب تک

دل کی مسجد مِرا ٹھکانہ تھا

سارے الزام میرے ذمے تھے

آپ کو کس نے آزمانا تھا

دل لگانا فضول تھا ویسے

خاک میں خود کو جا ملانا تھا

نیم شب انتظار رہتا تھا

تم نے خوابوں میں ساتھ آنا تھا


مشال مراد

No comments:

Post a Comment