تِری شبیہ کو لکھا ہے رنگ و بُو میں نے
گُلوں کی ایسے بچا لی ہے آبرُو میں نے
کتابِ زیست پہ ہے لفظ نا شناسائی
مگر یہ کیا کہ لکھا تم کو آج تُو میں نے
مجھی میں رہ کے وہ اب تک نہیں ملا مجھ کو
کہ ایک عمر سے کی جس کی جستجو میں نے
رہیں گے چین سے اب درد میں محبت غم
تمہاری دل سے مٹا دی ہے آرزو میں نے
جو میرے لہجے میں اب بھی خمار ہے صادق
کسی سے خواب میں کر لی تھی گفتگو میں نے
اہتمام صادق
No comments:
Post a Comment