Showing posts with label سلیم قادر. Show all posts
Showing posts with label سلیم قادر. Show all posts

Thursday, 29 January 2026

عشق کام اپنا کر گیا شاید

 عشق کام اپنا کر گیا شاید

مر رہا تھا تو مر گیا شاید

منتظِر اب بھی انتظار میں ہے

تھٙک کے وہ منتظر گیا شاید

صرف ویرانیاں ہیں، وحشت ہے

ہم سفر پیشتر گیا شاید

Wednesday, 30 July 2025

خیال یار ہے اک ہم ہیں اور وحشت ہے

 خیالِ یار ہے اک ہم ہیں اور وحشت ہے

عجیب حال ہے اپنا عجب طبیعت ہے

نہیں ہے فائدہ کچھ بھی یہاں جہاں والو

یہ راہِ عشق ہے اس میں فقط اذیت ہے

اٹھا کے سر نہیں چل سکتے کوئے جاناں میں

یہ کیسا ظلم ہے اور کیسی بربریت ہے

Thursday, 24 July 2025

عدو کی یار کی ایسی کی تیسی

 عدو کی یار کی ایسی کی تیسی

گلوں کی خار کی ایسی کی تیسی

پلا دے ساقیا مے آج پھر سے

اس استغفار کی ایسی کی تیسی

مرا دل اس طرف مائل نہیں ہے

لب و رخسار کی ایسی کی تیسی

Friday, 18 July 2025

غموں کے بار بہت کوئی غمگسار نہیں

 غموں کے بار بہت کوئی غمگسار نہیں

چراغِ زیست پہ اب کوئی اعتبار نہیں

غموں نے اب ہمیں تنہائیوں میں گھیر لیا

خزاں کی رُت ہے میرے دل میں اب بہار نہیں

اگر میں چاہوں بھی تو ترک عشق کیسے کروں

کہ اپنے دل پہ بھی اب مجھ کو اختیار نہیں

Thursday, 17 July 2025

انہیں زمینی خداؤں کے زیر دست ہوں میں

 انہیں زمینی خداؤں کے زیر دست ہوں میں

میں جانتا ہی نہیں تھا کہ کتنا پست ہوں میں

پئے شراب بھلا شیخ سے الجھنا کیا

خدا پرست ہے وہ اور بتاں پرست ہوں میں

کسی کی مست نگاہوں سے مست رہتا ہوں

زمانہ مجھ کو سمجھتا ہے بادہ مست ہوں میں