عشق کام اپنا کر گیا شاید
مر رہا تھا تو مر گیا شاید
منتظِر اب بھی انتظار میں ہے
تھٙک کے وہ منتظر گیا شاید
صرف ویرانیاں ہیں، وحشت ہے
ہم سفر پیشتر گیا شاید
عشق کام اپنا کر گیا شاید
مر رہا تھا تو مر گیا شاید
منتظِر اب بھی انتظار میں ہے
تھٙک کے وہ منتظر گیا شاید
صرف ویرانیاں ہیں، وحشت ہے
ہم سفر پیشتر گیا شاید
خیالِ یار ہے اک ہم ہیں اور وحشت ہے
عجیب حال ہے اپنا عجب طبیعت ہے
نہیں ہے فائدہ کچھ بھی یہاں جہاں والو
یہ راہِ عشق ہے اس میں فقط اذیت ہے
اٹھا کے سر نہیں چل سکتے کوئے جاناں میں
یہ کیسا ظلم ہے اور کیسی بربریت ہے
عدو کی یار کی ایسی کی تیسی
گلوں کی خار کی ایسی کی تیسی
پلا دے ساقیا مے آج پھر سے
اس استغفار کی ایسی کی تیسی
مرا دل اس طرف مائل نہیں ہے
لب و رخسار کی ایسی کی تیسی
غموں کے بار بہت کوئی غمگسار نہیں
چراغِ زیست پہ اب کوئی اعتبار نہیں
غموں نے اب ہمیں تنہائیوں میں گھیر لیا
خزاں کی رُت ہے میرے دل میں اب بہار نہیں
اگر میں چاہوں بھی تو ترک عشق کیسے کروں
کہ اپنے دل پہ بھی اب مجھ کو اختیار نہیں
انہیں زمینی خداؤں کے زیر دست ہوں میں
میں جانتا ہی نہیں تھا کہ کتنا پست ہوں میں
پئے شراب بھلا شیخ سے الجھنا کیا
خدا پرست ہے وہ اور بتاں پرست ہوں میں
کسی کی مست نگاہوں سے مست رہتا ہوں
زمانہ مجھ کو سمجھتا ہے بادہ مست ہوں میں