Showing posts with label حارث خلیق. Show all posts
Showing posts with label حارث خلیق. Show all posts

Friday, 29 March 2024

یہ سب میرے جنم دن کی خوشی میں ہے

 یہ سب میرے جنم دن کی خوشی میں ہے

یہ سب میری تمناؤں سے بڑھ کر ہے

کوئی ایسی بھی شے ہے جو

مجھ جیسے کم صفت کے ان تحائف میں

نہ شامل ہو

اگر کم ہے تو اک رومال کم ہے

Sunday, 8 August 2021

اس کی آمد کے تصور سے سنبھلتی آواز

 آواز


اس کی آمد کے تصور سے سنبھلتی آواز

اس کی قُربت کی تمازت سے پگھلتی آواز

صبح دم شوخ پرندوں کے چہکنے کی صدا

بند کلیوں کے نئے روپ کی کھلتی آواز

بحرِ ذخار کی عادت ہے یہ ٹھہرا ہوا شور

تیز دریاؤں کے پانی کی مچلتی آواز

Saturday, 26 June 2021

میں جس دن مر گیا اس دن بسیں چلتی رہیں گی

 میں جس دن مر گیا اس دن


اس دن

بسیں چلتی رہیں گی اپنے روٹوں پر

ٹریلر یوں ہی بندر گاہ سے سامان لائیں گے

جہازوں اور ٹرینوں کے

شیڈیول اور ٹائم ٹیبل میں

نہ کوئی فرق آئے گا

Monday, 26 April 2021

مجھے وہ خوف تھا کہ جس سے کوئی بھی بچا نہیں

 خواہش


مجھے وہ خوف تھا

کہ جس سے کوئی بھی بچا نہیں

وہی تو اک سوال تھا

کہ جس سوال کا جواب

آج تک

Tuesday, 20 April 2021

نہ کچھ جنت سے دلچسپی نہ کوئی ڈر جہنم کا

 اکتاہٹ 


نہ کچھ جنت سے دلچسپی 

نہ کوئی ڈر جہنم کا

کہ دونوں میں کبھی 

احساس کا موسم نہ بدلے گا 

مجھے بس

Monday, 19 April 2021

ہوا سیراب کرتی ہے

 ہوا سیراب کرتی ہے


زمینیں چاہییں لمبا تعلق کاشت کرنے کو

کہیں رہنے کو بسنے کو

مگر میں تو

تمہاری زندگی کے گرم موسم میں

ہوا کا ایک جھونکا تھا

Wednesday, 14 April 2021

آؤ جینے کی باتیں کریں

 آؤ جینے کی باتیں کریں


آسماں کی طرح

نارسائی کی چادر

ہمارے سروں پر تنی ہے

(جس میں دُکھ کے ستارے ٹکے ہیں)

اس کی جانب سے نظریں چُرائیں

آج کی رات سب بھُول جائیں

ہجر اک مہیب سناٹا

 ہجر


اک مہیب سناٹا

ہجر کا گھنا جنگل

جس کے سب درختوں پر

وحشتوں کا پیراہن

پیرہن سے لپٹی ہے

Tuesday, 13 April 2021

یہ ساری دنیا سوالیہ ہے

 سوال


یہ ساری دنیا سوالیہ ہے

ہر ایک چہرہ سوال اندر سوال ہے اور

ہر ایک منظر سوال بن کر

جواب کا منتظر کھڑا ہے

اگر کوئی سامنے بھی آئے