یہ سب میرے جنم دن کی خوشی میں ہے
یہ سب میری تمناؤں سے بڑھ کر ہے
کوئی ایسی بھی شے ہے جو
مجھ جیسے کم صفت کے ان تحائف میں
نہ شامل ہو
اگر کم ہے تو اک رومال کم ہے
یہ سب میرے جنم دن کی خوشی میں ہے
یہ سب میری تمناؤں سے بڑھ کر ہے
کوئی ایسی بھی شے ہے جو
مجھ جیسے کم صفت کے ان تحائف میں
نہ شامل ہو
اگر کم ہے تو اک رومال کم ہے
آواز
اس کی آمد کے تصور سے سنبھلتی آواز
اس کی قُربت کی تمازت سے پگھلتی آواز
صبح دم شوخ پرندوں کے چہکنے کی صدا
بند کلیوں کے نئے روپ کی کھلتی آواز
بحرِ ذخار کی عادت ہے یہ ٹھہرا ہوا شور
تیز دریاؤں کے پانی کی مچلتی آواز
میں جس دن مر گیا اس دن
اس دن
بسیں چلتی رہیں گی اپنے روٹوں پر
ٹریلر یوں ہی بندر گاہ سے سامان لائیں گے
جہازوں اور ٹرینوں کے
شیڈیول اور ٹائم ٹیبل میں
نہ کوئی فرق آئے گا
خواہش
مجھے وہ خوف تھا
کہ جس سے کوئی بھی بچا نہیں
وہی تو اک سوال تھا
کہ جس سوال کا جواب
آج تک
اکتاہٹ
نہ کچھ جنت سے دلچسپی
نہ کوئی ڈر جہنم کا
کہ دونوں میں کبھی
احساس کا موسم نہ بدلے گا
مجھے بس
ہوا سیراب کرتی ہے
زمینیں چاہییں لمبا تعلق کاشت کرنے کو
کہیں رہنے کو بسنے کو
مگر میں تو
تمہاری زندگی کے گرم موسم میں
ہوا کا ایک جھونکا تھا
آؤ جینے کی باتیں کریں
آسماں کی طرح
نارسائی کی چادر
ہمارے سروں پر تنی ہے
(جس میں دُکھ کے ستارے ٹکے ہیں)
اس کی جانب سے نظریں چُرائیں
آج کی رات سب بھُول جائیں
ہجر
اک مہیب سناٹا
ہجر کا گھنا جنگل
جس کے سب درختوں پر
وحشتوں کا پیراہن
پیرہن سے لپٹی ہے
سوال
یہ ساری دنیا سوالیہ ہے
ہر ایک چہرہ سوال اندر سوال ہے اور
ہر ایک منظر سوال بن کر
جواب کا منتظر کھڑا ہے
اگر کوئی سامنے بھی آئے