Monday, 19 April 2021

ہوا سیراب کرتی ہے

 ہوا سیراب کرتی ہے


زمینیں چاہییں لمبا تعلق کاشت کرنے کو

کہیں رہنے کو بسنے کو

مگر میں تو

تمہاری زندگی کے گرم موسم میں

ہوا کا ایک جھونکا تھا

ہوا بہتی ہوئی آتی ہے

اپنے پانیوں میں

جسم و جاں کے حبس کو غرقاب کرتی ہے

ہوا پر گھر نہیں بنتے

ہوا سے سانس آتی ہے

ہوا سیراب کرتی ہے


حارث خلیق

No comments:

Post a Comment