ٹی وی اینکرز
وہ مرے دوست تھے یا دشمن تھے
میری بے چارگی پہ روتے تھے
غم غلط ہو گیا مِرا آخر
محمد احمد
ٹی وی اینکرز
وہ مرے دوست تھے یا دشمن تھے
میری بے چارگی پہ روتے تھے
غم غلط ہو گیا مِرا آخر
محمد احمد
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
نہ رخشِ عقل، نہ کسب و ہنر کی حاجت ہے
نبیﷺ کی نعت ریاضت نہیں، سعادت ہے
یہ کافروں کا بھی ایماں تھا انؐ کے بارے میں
جو انﷺ کے پاس امانت ہے، باحفاظت ہے
ہے امر انﷺ کا ہمارے لیے خدا کا امر
کہ جو ہے انؐ کی اطاعت، خدا کی طاعت ہے
خفا ہیں مگر بات تو کیجیۓ
ملیں مت، ملاقات تو کیجیۓ
پلائیں نہ پانی، بٹھائیں بھی مت
مسافر سے کچھ بات تو کیجیۓ
سنی وعظ و تقریر، اچھی لگی
چلیں، کچھ مناجات تو کیجیۓ
یہ حقیقت بھی خواب ہے شاید
تشنگی بھی سراب ہے شاید
کچھ کسی کو نظر نہیں آتا
روشنی بے حساب ہے شاید
میں سزا ہوں تِری خطاؤں کی
تُو مِرا انتخاب ہے شاید
دشت میں کیا بھلا پُھول چُنتا کوئی
میں بھی کہتا اگر میری سُنتا کوئی
زندگی تیری گَت پر رہے ناچتے
گر سمجھتا تجھے، سر بھی دُھنتا کوئی
چُن لیا تھا مجھے میری تنہائی نے
مجھ اکیلے کو کیوں آ کے چُنتا کوئی
یاد آتے رہنا بس
دل دُکھاتے رہنا بس
اور کام کیا تم کو
آزماتے رہنا بس
دل پہ گرد کتنی ہو
چمچماتے رہنا بس
منظر سے پس منظر تک
کھڑکی پر مہتاب ٹکا تھا
رات سنہری تھی
اور دیوار پہ ساعت گنتی
سوئی سوئی گھڑی کی سُوئی
چلتے چلتے سمت گنوا کر غلطاں پیچاں تھی
میں بھی خود سے آنکھ چُرا کر
حیرت
ایک بستی تماش بینوں کی
اِک ہجوم
اژدھام لوگوں کا
دیکھ میرے تنِ برہنہ کو
ہنستا ہے
قہقہے لگاتا ہے