Showing posts with label امجد نجمی. Show all posts
Showing posts with label امجد نجمی. Show all posts

Thursday, 14 April 2022

اس سے پہلے کہ شب ماہ کے ٹھنڈے سائے

 اس سے پہلے کہ شب ماہ کے ٹھنڈے سائے

گرمیٔ صبح درخشاں سے پگھل کر رہ جائیں

اس سے پہلے کہ ستاروں پہ اجالوں کی گھٹا چھا جائے

اس سے پہلے کہ یہ شبنم کے گہر ہائے لطیف

نذر خورشید زر افشاں ہو جائیں

اس سے پہلے کہ چراغوں کے چمکتے موتی

Sunday, 25 April 2021

ترانۂ غم پنہاں ہے ہر خوشی اپنی

 ترانۂ غمِ پنہاں ہے ہر خوشی اپنی

کہ ایک دردِ مسلسل ہے زندگی اپنی

بہل نہ جائے کہیں یہ دل خزاں مانوس

بہار آ کے دکھاتی ہے دل کشی اپنی

کسی کے چہرۂ زیبا سے اس کو کیا نسبت

یوں ہی بکھیرا کرے چاند چاندنی اپنی

Tuesday, 13 April 2021

صبح دم آیا تو کیا ہنگام شام آیا تو کیا

 صبح دم آیا تو کیا ہنگامِ شام آیا تو کیا

تُو مِری ناکامیوں کے بعد کام آیا تو کیا

التفاتِ اولیں کی بات ہی کچھ اور ہے

مجھ تک ان کی بزم میں اب دورِ جام آیا تو کیا

طاقتِ نظارہ جب منت پذیرِ ہوش ہو

بہرِ جلوہ پھر کوئی بالائے بام آیا تو کیا

Saturday, 10 April 2021

جائیں کہاں ہم آپ کا ارماں لیے ہوئے

 جائیں کہاں ہم آپ کا ارماں لیے ہوئے

دردِ فراق و کاوشِ ہجراں لیے ہوئے

ان آنسوؤں کی تم کو حقیقت بتائیں کیا

آنکھیں ہیں میری شوکتِ طوفاں لیے ہوئے

رنجِ فراق بھی ہے، نشاطِ وصال بھی

ہوں ساتھ ساتھ درد کے درماں لیے ہوئے

Friday, 9 April 2021

اپنی ہستی کو یہاں بے مدعا سمجھا تھا میں

 اپنی ہستی کو یہاں بے مدعا سمجھا تھا میں

کیا سمجھنا چاہیے تھا اور کیا سمجھا تھا میں

تم کو اپنے درد دل کی گر دوا سمجھا تھا میں

کیا غلط سمجھا تھا میں بالکل بجا سمجھا تھا میں

کس غلط فہمی میں اپنی عمر ساری کٹ گئی

اک وفا نا آشنا کو با وفا سمجھا تھا میں

نہ کچھ عالم سمجھتے ہیں نہ کچھ جاہل سمجھتے ہیں

 نہ کچھ عالم سمجھتے ہیں نہ کچھ جاہل سمجھتے ہیں

محبت کی حقیقت کو بس اہلِ دل سمجھتے ہیں

نشانِ منزلِ مقصود پا کر بھی نہ جو ٹھہرے

اسی رہرو کو ہم آسودۂ منزل سمجھتے ہیں

تِرے صحرا نوردوں کا مذاقِ جستجو توبہ

غبارِ راہ کو یہ پردۂ محمل سمجھتے ہیں