اس سے پہلے کہ شب ماہ کے ٹھنڈے سائے
گرمیٔ صبح درخشاں سے پگھل کر رہ جائیں
اس سے پہلے کہ ستاروں پہ اجالوں کی گھٹا چھا جائے
اس سے پہلے کہ یہ شبنم کے گہر ہائے لطیف
نذر خورشید زر افشاں ہو جائیں
اس سے پہلے کہ چراغوں کے چمکتے موتی
اس سے پہلے کہ شب ماہ کے ٹھنڈے سائے
گرمیٔ صبح درخشاں سے پگھل کر رہ جائیں
اس سے پہلے کہ ستاروں پہ اجالوں کی گھٹا چھا جائے
اس سے پہلے کہ یہ شبنم کے گہر ہائے لطیف
نذر خورشید زر افشاں ہو جائیں
اس سے پہلے کہ چراغوں کے چمکتے موتی
ترانۂ غمِ پنہاں ہے ہر خوشی اپنی
کہ ایک دردِ مسلسل ہے زندگی اپنی
بہل نہ جائے کہیں یہ دل خزاں مانوس
بہار آ کے دکھاتی ہے دل کشی اپنی
کسی کے چہرۂ زیبا سے اس کو کیا نسبت
یوں ہی بکھیرا کرے چاند چاندنی اپنی
صبح دم آیا تو کیا ہنگامِ شام آیا تو کیا
تُو مِری ناکامیوں کے بعد کام آیا تو کیا
التفاتِ اولیں کی بات ہی کچھ اور ہے
مجھ تک ان کی بزم میں اب دورِ جام آیا تو کیا
طاقتِ نظارہ جب منت پذیرِ ہوش ہو
بہرِ جلوہ پھر کوئی بالائے بام آیا تو کیا
جائیں کہاں ہم آپ کا ارماں لیے ہوئے
دردِ فراق و کاوشِ ہجراں لیے ہوئے
ان آنسوؤں کی تم کو حقیقت بتائیں کیا
آنکھیں ہیں میری شوکتِ طوفاں لیے ہوئے
رنجِ فراق بھی ہے، نشاطِ وصال بھی
ہوں ساتھ ساتھ درد کے درماں لیے ہوئے
اپنی ہستی کو یہاں بے مدعا سمجھا تھا میں
کیا سمجھنا چاہیے تھا اور کیا سمجھا تھا میں
تم کو اپنے درد دل کی گر دوا سمجھا تھا میں
کیا غلط سمجھا تھا میں بالکل بجا سمجھا تھا میں
کس غلط فہمی میں اپنی عمر ساری کٹ گئی
اک وفا نا آشنا کو با وفا سمجھا تھا میں
نہ کچھ عالم سمجھتے ہیں نہ کچھ جاہل سمجھتے ہیں
محبت کی حقیقت کو بس اہلِ دل سمجھتے ہیں
نشانِ منزلِ مقصود پا کر بھی نہ جو ٹھہرے
اسی رہرو کو ہم آسودۂ منزل سمجھتے ہیں
تِرے صحرا نوردوں کا مذاقِ جستجو توبہ
غبارِ راہ کو یہ پردۂ محمل سمجھتے ہیں