Friday, 9 April 2021

اپنی ہستی کو یہاں بے مدعا سمجھا تھا میں

 اپنی ہستی کو یہاں بے مدعا سمجھا تھا میں

کیا سمجھنا چاہیے تھا اور کیا سمجھا تھا میں

تم کو اپنے درد دل کی گر دوا سمجھا تھا میں

کیا غلط سمجھا تھا میں بالکل بجا سمجھا تھا میں

کس غلط فہمی میں اپنی عمر ساری کٹ گئی

اک وفا نا آشنا کو با وفا سمجھا تھا میں

کچھ نہ پوچھو راہِ الفت میں مِری واماندگی

کاکلِ پیچیدہ کو زنجیر پا سمجھا تھا میں

اس کا ہر ہر گھونٹ تھا زہرِ ہلاہل سے سوا

زندگی کو چشمۂ آبِ بقا سمجھا تھا میں

سچ ہے نجمی عشق ازیں بسیار کردست و کند

سر کا دینا ایک آئینِ وفا سمجھا تھا میں


امجد نجمی

No comments:

Post a Comment