اک آس کی ماری ہوئی دُلہن کی طرح ہے
یہ زندگی ٹُوٹے ہوئے کنگن کی طرح ہے
ہر شخص مِرے شہر میں دُشمن کی طرح ہے
اب رام کا کردار بھی راون کی طرح ہے
دلکش ہے کہیں اور کہیں پیوند لگے ہیں
سچ پُوچھیے تو زندگی اُترن کی طرح ہے
اک آس کی ماری ہوئی دُلہن کی طرح ہے
یہ زندگی ٹُوٹے ہوئے کنگن کی طرح ہے
ہر شخص مِرے شہر میں دُشمن کی طرح ہے
اب رام کا کردار بھی راون کی طرح ہے
دلکش ہے کہیں اور کہیں پیوند لگے ہیں
سچ پُوچھیے تو زندگی اُترن کی طرح ہے
کسی کے غم کو گلے سے لگائے بیٹھے ہیں
ہم اپنے سارے غموں کو بھلائے بیٹھے ہیں
سکون دل کے لیے آج تیرے دیوانے
تِرے خیال کی دنیا سجائے بیٹھے ہیں
سیاہ رات ہے وہ آئیں تو اجالا رہے
اسی امید پہ شمعیں جلائے بیٹھے ہیں
وہ جنہیں غم بھلے سے لگتے ہیں
حادثوں میں پلے سے لگتے ہیں
ان سے ماضی کی داستاں پوچھو
وہ جو کھنڈر جلے سے لگتے ہیں
ہم سجاتے ہیں بزم یادوں کی
جب کبھی فاصلے سے لگتے ہیں
دردِ دل نے نئی کسک پائی
آپ کی یاد جب کبھی آئی
کون جانے جو دل پہ گزری ہے
کس نے ناپی ہے غم کی گہرائی
اب جنوں کا خدا ہی حافظ ہے
وحشتِ دل نے لی ہے انگڑائی