Showing posts with label کاظم راہی. Show all posts
Showing posts with label کاظم راہی. Show all posts

Friday, 6 March 2026

سچ پوچھیے تو زندگی اترن کی طرح ہے

 اک آس کی ماری ہوئی دُلہن کی طرح ہے

یہ زندگی ٹُوٹے ہوئے کنگن کی طرح ہے

ہر شخص مِرے شہر میں دُشمن کی طرح ہے

اب رام کا کردار بھی راون کی طرح ہے

دلکش ہے کہیں اور کہیں پیوند لگے ہیں

سچ پُوچھیے تو زندگی اُترن کی طرح ہے

Saturday, 23 August 2025

کسی کے غم کو گلے سے لگائے بیٹھے ہیں

 کسی کے غم کو گلے سے لگائے بیٹھے ہیں

ہم اپنے سارے غموں کو بھلائے بیٹھے ہیں

سکون دل کے لیے آج تیرے دیوانے

تِرے خیال کی دنیا سجائے بیٹھے ہیں

سیاہ رات ہے وہ آئیں تو اجالا رہے

اسی امید پہ شمعیں جلائے بیٹھے ہیں

Saturday, 7 June 2025

وہ جنہیں غم بھلے سے لگتے ہیں

 وہ جنہیں غم بھلے سے لگتے ہیں

حادثوں میں پلے سے لگتے ہیں

ان سے ماضی کی داستاں پوچھو

وہ جو کھنڈر جلے سے لگتے ہیں

ہم سجاتے ہیں بزم یادوں کی

جب کبھی فاصلے سے لگتے ہیں

Thursday, 6 January 2022

درد دل نے نئی کسک پائی

دردِ دل نے نئی کسک پائی

آپ کی یاد جب کبھی آئی

کون جانے جو دل پہ گزری ہے

کس نے ناپی ہے غم کی گہرائی

اب جنوں کا خدا ہی حافظ ہے

وحشتِ دل نے لی ہے انگڑائی