اک آس کی ماری ہوئی دُلہن کی طرح ہے
یہ زندگی ٹُوٹے ہوئے کنگن کی طرح ہے
ہر شخص مِرے شہر میں دُشمن کی طرح ہے
اب رام کا کردار بھی راون کی طرح ہے
دلکش ہے کہیں اور کہیں پیوند لگے ہیں
سچ پُوچھیے تو زندگی اُترن کی طرح ہے
اس دورِ ترقی میں بھی مُفلس کی جوانی
بھٹی میں سُلگتے ہوئے ایندھن کی طرح ہے
مُدت سے تِرے پاؤں کی آہٹ بھی نہیں ہے
اب وقت کسی بانجھ کے آنگن کی طرح ہے
کاظم رضا راہی
No comments:
Post a Comment