Wednesday, 11 March 2026

ریت پہ ساحل کی اپنے نقش پا چھوڑ آئے ہیں

 ریت پہ ساحل کی اپنے نقش پا چھوڑ آئے ہیں

اے ہوا تیرے لیے اپنا پتا چھوڑ آئے ہیں

لوٹ کر دیکھیں گے اس کے آگے اس نے کیا لکھا

ڈائری میں اس کی اک پنا مڑا چھوڑ آئے ہیں

یوں اثر انداز اکیلے پن کا دکھ ہم پہ ہوا

طوطے کے پنجرے کو آنگن میں کھلا چھوڑ آئے ہیں

شہر میں آ کر بھٹکتے پھر رہے ہیں در بدر

سیدھا سا ہر رستہ اپنے گاؤں کا چھوڑ آئے ہیں

 گزرے کیوں مایوس ہو کر صورت سائل ہوا

اک دیا دہلیز پر جلتا ہوا چھوڑ آئے ہیں

جالے بن کر مکڑیاں محفوظ رکھیں گی اسے

وقت رخصت گھر میں نام اللہ کا چھوڑ آئے ہیں

اس کے خالی پن کو بھی بھرنے کی سوچیں اے نیاز

ویسے تو راشن کا ہر ڈبہ بھرا چھوڑ آئے ہیں


نیاز احمد جیراجپوری

No comments:

Post a Comment