Sunday, 15 March 2026

مایوس اتنے ہو گئے تیرہ شبی سے ہم

 مایوس اتنے ہو گئے تیرہ شبی سے ہم

دامن بچائے پھرتے ہیں اب روشنی سے ہم

اے گردش زمانہ! ہمیں دھمکیاں نہ دے

ہر وقت کام لیتے ہیں زندہ دلی سے ہم

جو ہیں بلند حوصلہ کہتے نہیں کبھی

تنگ آ گئے ہیں کشمکش زندگی سے ہم

ان کی نگاہِ لطف ہے غیروں پہ آج کل

بیٹھے ہوئے ہیں بزم میں اک اجنبی سے ہم

ہر اک سے مانگنے کی تو عادت نہیں ہمیں

کرتے ہیں جب سوال تو بس آپ ہی سے ہم

دردِ جگر کچھ اور سوا ہو گیا نصیر

باز آئے ایسے لوگوں کی چارہ گری سے ہم


نصیر انصاری

No comments:

Post a Comment