ایسی عادت پڑی لڑائی کی
جان لیتا ہے بھائی بھائی کی
انگلیاں اٹھتی ہیں خدائی کی
ہت تِری ایسی بے حیائی کی
دھجیاں میکدے میں شیخ کی آج
خوب اڑتی ہیں پارسائی کی
جب سے ہاتھ آیا ان کے گھر کا نظام
سن رہا ہوں بڑی صفائی کی
جس کے آگے زمانہ جھکتا ہے
ہے وہ بس ایک ذات نائی کی
وہ حسینوں کی جوتیاں کھائیں
ہو ضرورت جنہیں کمائی کی
عشق کی آگ میں جو جلتا ہے
اس کو حاجت نہیں رضائی کی
ناوک لکھنوی
اشیاق حسین ظریفی
No comments:
Post a Comment