Wednesday, 18 March 2026

ایسی عادت پڑی لڑائی کی

 ایسی عادت پڑی لڑائی کی

جان لیتا ہے بھائی بھائی کی

انگلیاں اٹھتی ہیں خدائی کی

ہت تِری ایسی بے حیائی کی

دھجیاں میکدے میں شیخ کی آج

خوب اڑتی ہیں پارسائی کی

جب سے ہاتھ آیا ان کے گھر کا نظام

سن رہا ہوں بڑی صفائی کی

جس کے آگے زمانہ جھکتا ہے

ہے وہ بس ایک ذات نائی کی

وہ حسینوں کی جوتیاں کھائیں

ہو ضرورت جنہیں کمائی کی

عشق کی آگ میں جو جلتا ہے

اس کو حاجت نہیں رضائی کی


ناوک لکھنوی

اشیاق حسین ظریفی

No comments:

Post a Comment