ہجر میں دل ٹھکانے لگ گیا ہے
آنکھ سے خون آنے لگ گیا ہے
ایسی تنہائی ہے کہ اب تو ہمیں
خود سے بھی خوف آنے لگ گیا ہے
جس کو نفرت تھی شعر گوئی سے
عشق میں گیت گانے لگ گیا ہے
میں نے اس سے خلوص مانگا تھا
اور وہ پیسہ کمانے لگ گیا ہے
یہ الگ دکھ کہ تجھ سا بندہ بھی
اب ہمیں آزمانے لگ گیا ہے
روٹھ کر مانتا نہ تھا جو کبھی
اب جنم دن منانے لگ گیا ہے
ہم نے کیا دھیان سے سنا تجھ کو
تو تو باتیں سنانے لگ گیا ہے
نادیہ گیلانی
No comments:
Post a Comment