Monday, 16 March 2026

عشق میں گیت گانے لگ گیا ہے

 ہجر میں دل ٹھکانے لگ گیا ہے

آنکھ سے خون آنے لگ گیا ہے

ایسی تنہائی ہے کہ اب تو ہمیں

خود سے بھی خوف آنے لگ گیا ہے

جس کو نفرت تھی شعر گوئی سے

عشق میں گیت گانے لگ گیا ہے

میں نے اس سے خلوص مانگا تھا

اور وہ پیسہ کمانے لگ گیا ہے

یہ الگ دکھ کہ تجھ سا بندہ بھی 

اب ہمیں آزمانے لگ گیا ہے

روٹھ کر مانتا نہ تھا جو کبھی 

اب جنم دن منانے لگ گیا ہے

ہم نے کیا دھیان سے سنا تجھ کو

تو تو باتیں سنانے لگ گیا ہے


نادیہ گیلانی

No comments:

Post a Comment