جواب دو تم کیا ہے کس نے تمہیں اشارہ سوال یہ ہے
کہ آج تک میں نے کیا بگارا صنم تمہارا سوال یہ ہے
قدم قدم پہ کھڑی تھی مصیبتوں میں یہ زیست تیری
خموش کیوں ہے نہیں ہے اس کو اگر سنوارا سوال یہ ہے
حضور تم کو بسایا دل میں چھپا کے رکھا زمانے بھر سے
مِری وفاؤں سے کیوں مِری جاں! کیا کنارا سوال یہ ہے
ہمی نے باہم یہ طے کیا تھا جئیں گے مل کے مریں گے مل کے
مجھے ہی حصے میں کیوں ملا ہے سبھی خسارا سوال یہ ہے
بہت ہی اچھی گزر رہی تھی یہ زیست اپنی ہماری قیصر
چلے ہو کیوں یار کر کے ہم کو یوں بے سہارا سوال یہ ہے
قیصر عمران
No comments:
Post a Comment