Tuesday, 31 March 2026

جواب دو تم کیا ہے کس نے تمہیں اشارہ سوال یہ ہے

 جواب دو تم کیا ہے کس نے تمہیں اشارہ سوال یہ ہے

کہ آج تک میں نے کیا بگارا صنم تمہارا سوال یہ ہے

قدم قدم پہ کھڑی تھی مصیبتوں میں یہ زیست تیری

خموش کیوں ہے نہیں ہے اس کو اگر سنوارا سوال یہ ہے

حضور تم کو بسایا دل میں چھپا کے رکھا زمانے بھر سے

مِری وفاؤں سے کیوں مِری جاں! کیا کنارا سوال یہ ہے

ہمی نے باہم یہ طے کیا تھا جئیں گے مل کے مریں گے مل کے

مجھے ہی حصے میں کیوں ملا ہے سبھی خسارا سوال یہ ہے

بہت ہی اچھی گزر رہی تھی یہ زیست اپنی ہماری قیصر

چلے ہو کیوں یار کر کے ہم کو یوں بے سہارا سوال یہ ہے


قیصر عمران

No comments:

Post a Comment