Wednesday, 25 March 2026

میرے نہ ہوئیے مجھے اپنا نہ کیجیے

 میرے نہ ہوئیے مجھے اپنا نہ کیجیے

لیکن مذاق حسن کو رسوا نہ کیجیے

دل تو یہ کہہ رہا ہے کہ ان سے گلہ کروں

غیرت یہ کہہ رہی ہے کہ شکوہ نہ کیجیے

ٹوٹے گا نفس کا یہ تسلسل خبر نہیں

چلتی ہوئی ہوا کا بھروسہ نہ کیجیے

ظالم سے گلستاں کو بچانا ضرور ہے

کچھ گل مسل گئے ہیں تو پروا نہ کیجیے

ہے آج تیز دھوپ میں ہمت کا امتحاں

اس وقت آپ زلف کا سایہ نہ کیجیے

مظہر وہ بت کدہ ہو کلیسا ہو یا حرم

جب تک نہ دل جھکے کہیں سجدہ نہ کیجیے


حکیم مظہر سبحان عثمانی زخمی

No comments:

Post a Comment