میرے نہ ہوئیے مجھے اپنا نہ کیجیے
لیکن مذاق حسن کو رسوا نہ کیجیے
دل تو یہ کہہ رہا ہے کہ ان سے گلہ کروں
غیرت یہ کہہ رہی ہے کہ شکوہ نہ کیجیے
ٹوٹے گا نفس کا یہ تسلسل خبر نہیں
چلتی ہوئی ہوا کا بھروسہ نہ کیجیے
ظالم سے گلستاں کو بچانا ضرور ہے
کچھ گل مسل گئے ہیں تو پروا نہ کیجیے
ہے آج تیز دھوپ میں ہمت کا امتحاں
اس وقت آپ زلف کا سایہ نہ کیجیے
مظہر وہ بت کدہ ہو کلیسا ہو یا حرم
جب تک نہ دل جھکے کہیں سجدہ نہ کیجیے
حکیم مظہر سبحان عثمانی زخمی
No comments:
Post a Comment