Tuesday, 24 March 2026

دشمن کے طنز کو بھی سلیقے سے ٹال دے

 دشمن کے طنز کو بھی سلیقے سے ٹال دے 

اپنے مذاق طبع کی ایسی مثال دے 

بخشے بہار کو جو نہ شائستگی کا رنگ 

ایسی ہر ایک شے کو چمن سے نکال دے 

پچھلی رتوں کے داغ تو سب ماند پڑ گئے 

اب کے بہار زخم کوئی لا زوال دے 

میں بھی تو راہرو ہوں ترا رہ گزار شوق 

تھوڑی سی دھول میری طرف بھی اچھال دے 

معصوم صاف گوئی بڑی چیز ہے مگر 

ایسا نہ ہو کہیں یہ مصیبت میں ڈال دے


معصوم شرقی

No comments:

Post a Comment