Wednesday, 25 March 2026

ان کا انداز بیاں اور اثر تو دیکھو

 ان کا انداز بیاں اور اثر تو دیکھو

گفتگو کا یہ سلیقہ یہ ہنر تو دیکھو

زخم پر مرہم امید رکھا ہے میں نے

دیکھنے والو مِرا زخم جگر تو دیکھو

کہہ رہی ہے مِرے کانوں میں گزرتی ہوئی شام

یہ مِرا حوصلہ یہ عزم سفر تو دیکھو

آئے تو ہیں مِرے نزدیک وہ تھوڑا سا مگر

ان کا بے گانہ سا انداز نظر تو دیکھو

شب تاریک بھی لائی ہے اجالوں کے پیام

چھت پہ پھیلی ہوئی یہ اجلی سحر تو دیکھو

یاسمیں چاند ستاروں سے کہا ہے میں نے

آؤ میرا حسیں بھوپال نگر تو دیکھو


فیروزہ یاسمین

No comments:

Post a Comment