محفوظ کیا رہا ہے نظر سے دُکان میں
کیسے چھُپاؤں عمر کو ٹُوٹے مکان میں
دُہرائے کون قتلِ غریباں کی داستاں
زنجیر ڈال دی ہے ڈروں نے زبان میں
دن میں جو دے رہے تھے ہمیں آشتی کا درس
شب میں چُھپا رہے تھے کوئی شے مچان میں
خالی نہیں ہے صِدق و صفا سے ابھی جہاں
روشن ہیں کچھ چراغِ وفا آسمان میں
ہر دو قدم پہ دُھوپ تو ہر دو قدم پہ چھاؤں
اس طور کی بساط ہے سارے جہان میں
اے ممتحن یہ یاد رہے ہر نفس کے ساتھ
اُس امتحاں کی بات ہے اِس امتحان میں
مہر زریں
مہرالنساء
No comments:
Post a Comment