Showing posts with label نوید فدا. Show all posts
Showing posts with label نوید فدا. Show all posts

Monday, 11 April 2022

میں ڈھونڈنے نکلا تھا کبھی خاک میں دنیا

 میں ڈھونڈنے نکلا تھا کبھی خاک میں دنیا

گم ہوتی گئی وسعتِ افلاک میں دنیا

میں خاک ہوں ملتے ہیں سبھی میری حدوں سے

میں چاک ہوں گھومے مِری پیچاک میں دنیا

میں مانگنے والا نہیں درویش ہوں صاحب

مل جائے گی تم کو مِری پوشاک میں دنیا

Friday, 4 September 2020

لفظ ترتیب سے رکھتا ہوں میں تمثیل کے ساتھ

لفظ ترتیب سے رکھتا ہوں میں تمثیل کے ساتھ
کون کرتا ہے بیاں فلسفہ تفصیل کے ساتھ
اشک پیدا ہوا آنکھوں کی زمیں سے یک دم
آئینہ ٹوٹ گیا ہجر کی تکمیل کے ساتھ
میری آواز بہت دُور تلک جائے گی
آیتِ ہجر سُناؤں گا میں ترتیل کے ساتھ

آواز کے ٹوٹے ہوئے پیکر سے گرا تھا

آواز کے ٹوٹے ہوئے پیکر سے گِرا تھا
وہ لفظ جو کٹ کر مِرے اندر سے گرا تھا 
سب پھول کھلے تھے تِرے ہونٹوں کی چھووّن سے 
ہر رنگ تِری آنکھ کے منظر سے گرا تھا 
ٹوٹا تھا ستارا بھی کوئی خواب میں آ کر 
جگنو بھی کوئی رات کی چادر سے گرا تھا

Saturday, 28 September 2019

دل کے احساس میں شامل ہے ضرورت اس کی

دل کے احساس میں شامل ہے ضرورت اس کی
میرے سینے میں دھڑکتی ہے محبت اس کی
آئینہ ہو کہ بھی میں دیکھ نہیں پاتا اسے 
آن کی آن بدل جاتی ہے صورت اس کی
میرے ہاتھوں سے یہ کشکول گرے تو مانو 
یوں تو مشہور ہے دنیا میں سخاوت اس کی

ہوا نہ مجھ سے کوئی ہمکلام گردش میں

ہُوا نہ مجھ سے کوئی ہم کلام گردش میں 
دھواں ہوۓ ہیں مِرے صبح و شام گردش میں
خیال و خواب ہوا ہر زمانۂ وحشت 
اتر چکے ہیں سبھی خوش خرام گردش میں
میں بھاگتا ہوں سرِ دشتِ کربلا اور پھر 
اضافہ کرتے ہیں آ کر امام گردش میں

خوشا کے وقت سے اذن سفر ملا ہے مجھے

خوشا کے وقت سے اذنِ سفر ملا ہے مجھے 
تمام شہر سرِ رہگزر ملا ہے مجھے
میں ڈھال سکتا ہوں ہر شے کو اپنے سانچے میں 
مِرے عزیز! بلا کا ہنر ملا ہے مجھے
یہ سوچتا ہوں مجھے کس طرح سے مل پاتا 
سکوں بھی وہ جو تجھے دیکھ کر ملا ہے مجھے

Friday, 27 April 2018

بنے ہیں دشت میں دیوار و در وغیرہ بھی

بنے ہیں دشت میں دیوار و در وغیرہ بھی
ہمارے ساتھ ہے زعمِ سفر وغیرہ بھی
مِرے مدار میں وہ خوف سے اتر نہ سکے 
خلا میں لٹکے ہیں شمس و قمر وغیرہ بھی
یہ کس ستارے سے آئی ہے منظروں میں چمک 
دمک اٹھے ہیں مِرے بام و در وغیرہ بھی

لفظوں میں اپنے اشک پرو کر دکھاؤں گا

لفظوں میں اپنے اشک پِرو کر دکھاؤں گا 
میں شاعری سے درد کے سانچے بناؤں گا
چہرے سے اپنے گردِ ماہ و سال ایک دن 
جھاڑوں گا، آئینے کا تمسخر اڑاؤں گا
ہر کیفیت سے لطف اٹھانا ہے شام تک 
رو کر لکھوں گا ہنس کے تِرے گیت گاؤں گا

وہ خواب ٹوٹ گیا سازشیں نئی ہوئی ہیں

وہ خواب ٹوٹ گیا سازشیں نئی ہوئی ہیں
شکستگی سے یہ آنکھیں شکستہ بھی ہوئی ہیں
احد کے لطف پہ موقوف ہے کرم کی نظر 
وضاحتیں تو بہت آدمی نے دی ہوئی ہیں
ہماری آنکھ سے اشجار نم شگفتہ ہوئے 
ہمارے خون سے یہ ٹہنیاں ہری ہوئی ہیں

Thursday, 22 March 2018

یہ جو سائے ستا رہے تھے مجھے

یہ جو سائے ستا رہے تھے مجھے
کس لیے آزما رہے تھے مجھے
خود ہی منظر سے ہٹ گئے ہو تم 
راستے سے ہٹا رہے تھے مجھے
اپنے اندر جو جھانک کر دیکھا 
کتنے ہی درد کھا رہے تھے مجھے

لفظ بکھرے تو حقیقت کی طرف داری کی

لفظ بکھرے تو حقیقت کی طرفداری کی 
آئینہ توڑ دیا،۔۔۔۔ اور عزاداری کی
اے شب ہجر! گزر جا کہ دمِ رخصتِ خواب 
میری آنکھوں میں کھٹکتی ہے تیری تاریکی
دل نے بازارِ تمنا سے پری کی خاطر 
پھول ہی پھول چنے جب بھی خریداری کی

مجھے تو اب بھی یاد ہے گئے دنوں میں کیا ہوا

مجھے تو اب بھی یاد ہے گئے دنوں میں کیا ہوا 
وہ کشتیاں جلی ہوئیں، وہ قافلہ لٹا ہوا
فقیر کی دعا ہوں میں الست کی صدا ہوں میں 
سنو گے ایک دن مجھے لبوں پہ ہوں رکا ہوا
مثالِ وصل دی گئی زمیں کو فصل دی گئی 
اک اور نسل دی گئی بدن سے رابطہ ہوا