میں ڈھونڈنے نکلا تھا کبھی خاک میں دنیا
گم ہوتی گئی وسعتِ افلاک میں دنیا
میں خاک ہوں ملتے ہیں سبھی میری حدوں سے
میں چاک ہوں گھومے مِری پیچاک میں دنیا
میں مانگنے والا نہیں درویش ہوں صاحب
مل جائے گی تم کو مِری پوشاک میں دنیا
میں ڈھونڈنے نکلا تھا کبھی خاک میں دنیا
گم ہوتی گئی وسعتِ افلاک میں دنیا
میں خاک ہوں ملتے ہیں سبھی میری حدوں سے
میں چاک ہوں گھومے مِری پیچاک میں دنیا
میں مانگنے والا نہیں درویش ہوں صاحب
مل جائے گی تم کو مِری پوشاک میں دنیا