لفظ ترتیب سے رکھتا ہوں میں تمثیل کے ساتھ
کون کرتا ہے بیاں فلسفہ تفصیل کے ساتھ
اشک پیدا ہوا آنکھوں کی زمیں سے یک دم
آئینہ ٹوٹ گیا ہجر کی تکمیل کے ساتھ
میری آواز بہت دُور تلک جائے گی
میرے اشعار میں پیغام تھا دنیا کے لیے
میرا دِیوان بھی رکھا گیا انجیل کے ساتھ
دن نکلتے ہی اُترتا ہے کُھلے پانی میں
جانے کیا ربط ہے سورج کا میری جھیل کے ساتھ
میری جانب بھی تو کچھ تشنہ دہاں آئے گے
میرا دریا بھی تو بہتا ہے تِرے نیل کے ساتھ
روشنی زخم چُھپائے بھی تو کیسے آخر
میں نے سُورج کو شکستہ کِیا قندیل کے ساتھ
ان کی پرواز پہ افلاک فدا ہوتا ہے
اب تو شاہین بھی اُڑتے ہیں ابابیل کے ساتھ
نوید فدا ستی
No comments:
Post a Comment