Friday, 4 September 2020

لفظ ترتیب سے رکھتا ہوں میں تمثیل کے ساتھ

لفظ ترتیب سے رکھتا ہوں میں تمثیل کے ساتھ
کون کرتا ہے بیاں فلسفہ تفصیل کے ساتھ
اشک پیدا ہوا آنکھوں کی زمیں سے یک دم
آئینہ ٹوٹ گیا ہجر کی تکمیل کے ساتھ
میری آواز بہت دُور تلک جائے گی
آیتِ ہجر سُناؤں گا میں ترتیل کے ساتھ
میرے اشعار میں پیغام تھا دنیا کے لیے
میرا دِیوان بھی رکھا گیا انجیل کے ساتھ
دن نکلتے ہی اُترتا ہے کُھلے پانی میں
جانے کیا ربط ہے سورج کا میری جھیل کے ساتھ
میری جانب بھی تو کچھ تشنہ دہاں آئے گے
میرا دریا بھی تو بہتا ہے تِرے نیل کے ساتھ
روشنی زخم چُھپائے بھی تو کیسے آخر
میں نے سُورج کو شکستہ کِیا قندیل کے ساتھ
ان کی پرواز پہ افلاک فدا ہوتا ہے
اب تو شاہین بھی اُڑتے ہیں ابابیل کے ساتھ

نوید فدا ستی

No comments:

Post a Comment